.

افغان طالبان: سابق کینڈین یرغمالی کا عصمت ریزی اور بچی کے قتل کاالزام مسترد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغان طالبان نے حال ہی میں ایک فوجی کارروائی میں بازیاب کرائے گئے کینیڈین یرغمالی جوشوا بوائل کے ان دعووں کو مسترد کردیا ہے جن میں انھوں نے اغوا کاروں پر الزام عاید کیا ہے کہ انھوں نے اس کی بیوی کی عصمت ریز ی کی تھی اوربچی کو قتل کردیا تھا۔طالبان نے کہا ہے کہ اس عورت کا ’’ فطری اسقاط حمل‘‘ ہوگیا تھا۔

امریکی شہری کیٹلان کولمین اور اس کے خاوند جوشوا بوائل کو 2012ء میں افغانستان میں کوہ پیمائی کے لیے سفر کے دوران اغوا کر لیا گیا تھا۔اغوا کے وقت اکتیس سالہ کیٹلان حاملہ تھیں۔ مس کولمین نے دوران حراست تین بچوں کو جنم دیا تھا۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ( آئی ایس پی آر) کے بیان کے مطابق انھیں 11 اکتوبر 2017 کو وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے کرم ایجنسی کے سرحدی علاقے میں افغانستان سے منتقل کیا گیا تھا۔ اس کے بعد پاک فوج کے جوانوں اور انٹیلی جنس نے مشترکہ کارروائی کرکے انھیں بازیاب کر لیا تھا اور پھر انھیں ان کے آبائی ممالک میں واپس بھیج دیا گیا ہے۔

بوائل نے جمعہ کو ٹورانٹو پہنچنے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اغوا کاروں پر اپنی بچی کے قتل اور بیوی سے عصمت ریزی کا الزام عاید کیا تھا۔ انھوں نے ایک بیان میں کہا تھا کہ حقانی نیٹ ورک کی حماقت اور برے برتاؤ کی وجہ سے ان کی نوزائیدہ بچی کی موت واقع ہوگئی تھی۔طالبان نے ان دونوں سنگین الزامات کو من گھڑت اور جھوٹ قرار دیا ہے۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اتوار کو ایک بیان جاری کیا ہے اور اس میں کہا ہے کہ بوائل اور کولمین کو دوران حراست میں کبھی بھی ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا گیا تھا کیونکہ مجاہدین کسی شبے کا موقع نہیں دینا چاہتے تھے۔البتہ انھوں نے بچی کی موت کا اعتراف کیا ہے لیکن اس کی ایک مختلف کہانی بیان کی ہے۔

انھوں نے بیان میں کہا ہے کہ ’’ دوران حراست میں ایک واقعہ رونما ہوا تھاجب یہ عورت حمل سے تھی تو بیمار پڑ گئی تھی۔انھیں دور دراز علاقے میں رکھا گیا تھا۔وہاں کوئی ڈاکٹر موجود نہیں تھا۔اس ناگہانی صورت حال میں اس عورت کی بچی کا اسقاط ہوگیا تھا‘‘۔

انھوں نے کہا کہ ’’اس وقت میڈیا کے ذریعے جو الزامات سامنے آرہے ہیں،ان کا حقیقت سے کچھ بھی تعلق نہیں ہے کیونکہ وہ اس وقت دشمن کے ہاتھ میں ہیں‘‘۔مسٹر جوشوا بوائل کا کہنا تھا کہ نوزائیدہ بچی کی موت اور بیوی کی عصمت ریزی کا واقعہ 2014ء میں پیش آیا تھا لیکن اس کی انھوں نے مزید کوئی تفصیل نہیں بتائی ہے۔البتہ ان کا کہنا تھا کہ وہ جنگ زدہ ملک میں غریب دیہاتیوں کی مدد کے لیے گئے تھے لیکن انھیں وہاں اغوا کر لیا گیا تھا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان آرمی کی ایک کارروائی میں کینیڈی ،امریکی جوڑے اور ان کے تین بچوں کی طالبان کی حراست سے بہ حفاظت بازیابی کو امریکا کے پاکستان کے ساتھ تعلقات کے لیے ایک مثبت لمحہ قرار دیا ہے اور اس پر پاکستان کے ساتھ مشروط طور پر اظہار تشکر کیا تھا اور کہا تھا کہ یہ اقدام خطے میں سکیورٹی کے لیے امریکی خواہشات کے مطابق ’’ ڈو مور‘‘ مطالبے کی پاس داری کی علامت ہے۔