.

ترکی: 100 سابق پولیس افسران کی گرفتاری کے احکامات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک حکام نے گذشتہ برس حکومت کے خلاف انقلاب کی ناکم کوشش [بغاوت] میں مورد الزام ٹھہرائے گئے ایک سو سابق پولیس اہلکاروں کو گرفتارکرنے کے احکامات جاری کیے ہیں، جس کے بعد ان میں سے 63 کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

ان مشتبہ سابق پولیس اہلکاروں پر شبہ ہے کہ وہ امریکا میں مقیم فتح اللہ گولن کے نیٹ ورک میں شامل رہتے ہوئے’پائی لاک‘ نامی خفیہ پیغام رسانی کی ایک اپیلی کیشن استعمال کرتے رہے ہیں۔ ان پیغامات میں انہوں نے حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے باہمی رابطے کیے تھے۔

خیال رہے کہ انقرہ حکومت امریکا میں خود ساختہ جلا وطنی کی زندگی گذارنے والے مذہبی مبلغ فتح اللہ گولن پر جولائی 2016ء کو صدر ایردوآن کا تختہ الٹنے کی سازش کا الزام عاید کرتی چلی آ رہی ہے۔ سنہ 1999ء سے امریکا میں مقیم فتح اللہ گولن ان الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہیں۔

خبر رساں ادارے ’اناطولیہ’ کے مطابق درجنوں سابق پولیس اہلکاروں کی 19 صوبوں میں تلاش جاری ہے۔

گذشتہ برس ترکی میں انقلاب کی ناکام کوشش کے بعد 50 ہزار افراد کو حراست میں لینے کے ساتھ گولن نیٹ ورک سے وابستگی کے الزام میں ڈیڑھ لاکھ سرکاری ملازمین کو فوج، پولیس، عدلیہ، جنرل اور پبلک سیکٹر سے برطرف کیا جا چکا ہے۔