.

جرمنی میں مسلم تیوہار پر تعطیلات دینے کی تجویز پر شدید ردعمل

جن علاقوں میں مسلمان زیادہ ہیں وہاں اسلامی چھٹیوں میں کیا حرج ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جرمن وزیر داخلہ تھامس دیمیزیری نے اپنے ملک میں مقیم مسلم اقلیت کو اسلامی تیوہاروں کے موقع پر چھٹیاں دینے کی تجویز پیش کی ہے۔ حکمران جماعت کے متعدد وزراء اپنے ساتھی پر متذکرہ تجویز پیش کرنے پر برس پڑے۔

تفصیلات کے مطابق اتوار کو شمالی ریاست لور سیزونی ڈیو میں آئندہ الیکشن کے حوالے سے ایک مہم کے دوران خطاب میں انہوں نے کہا کہ وہ جرمنی کے مخصوص علاقوں میں اسلامی چھٹیاں دینے کے خواہش مند ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ جن علاقوں میں مسلمان زیادہ ہے وہاں اسلامی چھٹیوں میں کیا حرج ہے؟ کھیتولک اور پروٹسٹنٹ عیسائی بھی اکثر اپنے اہم دنوں میں جشن مناتے ہیں۔

جرمن وزیر داخلہ کی اس تجویز کو مسلمانوں نے قابل تعریف قرار دیا ہے۔ جرمنی میں مسلم کونسل کے سربراہ نے کہا ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے مسلمان جرمن معاشرے میں گھل مل سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے مسلمان طلبا، دفاتر کے اسٹاف اور دیگر کام کرنے والوں کو اہم دنوں میں چھٹی لینے کی مشکل سے نجات مل سکتی ہے۔

جرمنی میں پچاس لاکھ کی تعداد میں مسلمان رہتے ہیں جو کل آبادی کا چھ فیصد قرار دیا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ جرمنی میں تقریبا 45 لاکھ مسلمان مقیم ہیں جن میں سے اکثریت ترکوں کی ہے۔