.

بندوق کے ساتھ قلم وذہن کے استعمال کا کلچرعام کیا جائے: مفتی مصر

دارالافتاء سے رجوع عوام کے اعتماد کا اظہار ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے مفتی اعظم شوقی علام نے زور دیا ہے کہ معاشرتی، سماجی اور امن وامان کے مسائل کے حل کے لیے بندوق کے ساتھ قلم اور دماغ کو استعمال کرنے کا کلچر بھی عام کیا جائے۔

’العربیہ‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں علامہ شوقی علام نے کہا کہ غیرسرکاری اداروں پر عوام کا اعتماد کم اور دارالافتاء پر بڑھا ہے۔ رواں سال قاہرہ کے دارالافتاء سیکرٹریٹ میں منعقدہ عالمی کانفرنس میں بڑی تعداد میں شرکت سے ثابت ہوا ہے کہ مصری دارالافتاء کامیابی کے ساتھ اپنا سفر جاری رکھے ہوئے ہے اور عوام کا اس پر اعتماد بڑھ رہا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ غیر سرکاری اداروں پر عوام کا اعتماد کم ہونے کے نتیجے میں عوام دارالافتاء سے رجوع کررہے ہیں۔ دارالافتاء سے روز مرہ کی بنیاد پر فتوے صادر کیے جا رہے ہیں۔ بعض اوقات ایک دن میں جاری کردہ فتوؤں کی تعداد 2400 تک جا پہنچتی ہے۔

ڈاکٹر شوقی علام نے کہا کہ دہشت گردانہ نظریات کینسر کے جراثیم کی طرح معاشروں کے لیے خطرناک ہیں۔ ان کا مقابلہ کرنے کے لیے پوری قوم کو تیار رہنا چاہیے۔ ان گمراہ نظریات سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ شہری اپنے دینی مسائل کے حل کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔ اس طرح دہشت گردانہ افکار کو کم سے کم ترویج ملے جس کے نتیجے میں وہ خود ہی دم توڑ دیں گے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فوج اور بندوق کے ساتھ قلم اور ذہن کو استعمال کرنا بھی ضروری ہے۔

ایک سوال کے جواب میں مصر کے مفتی اعظم نے کہا کہ مصر میں اخوان المسلمون کے اقتدار کے اختتام کے بعد ملک میں لادینیت میں اضافہ ہوا ہے۔ الحاد اور لادینیت کی طرف مائل نوجوانوں کو ’اسلام ہی تمام مسائل کا حل‘ کا نعرہ سنایا جاتا۔ یہی وجہ ہے کہ اخوان المسلمون اپنے فلسفے میں ناکام ہوئی۔ لادینیت کی طرف میلان رکھنے والے نوجوانوں نے یہ سمجھا کہ اسلام ناکام ہوگیا۔

انہوں نے قطری عالم دین یوسف القرضاوی کے جاری کردہ فتاویٰ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ القرضاوی جیسے لوگوں کے فتوے نوجوانوں کے ذہنوں میں تشدد کا رس گھول رہے ہیں۔

ڈاکٹر شوقی علام نے کہا کہ سوشل میڈیا پر مصری دارالافتاء کو فالو کرنے والوں کی تعداد تیزی کے ساتھ بڑھ رہی ہے۔ سوشل میڈیا پر ایک گھنٹے میں 35 ہزار فالورز کا اضافہ ہوا ہے۔