.

قطری بنکوں نے غیرملکیوں کو ڈالر کی فروخت کم کردی: بلومبرگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قطر کے متعدد بنکوں نے اپنے غیرملکی صارفین اور سرمایہ کاروں کو ڈالر کی فروخت کم کردی ہے۔

اس بات کا انکشاف بلومبرگ نے اپنی ایک نئی رپورٹ میں کیا ہے۔اس نے مختلف لوگوں سے ان کی شناخت ظاہر کیے بغیر انٹرویو ز کیے ہیں۔انھوں نے بتایا ہے کہ مقامی اور بین الاقوامی بنکوں کے درمیان غیرملکی کرنسی میں لین دین قریب قریب ٹھپ ہوچکا ہے ۔البتہ قطر کا مرکزی بنک ابھی تک مقامی کاروباری ضروریات کو پورا کرنے کے لیے سرمایہ کاروں اور صارفین کو ڈالر مہیا کررہا ہے اور اس کی شرح تبادلہ 3.64 ریال فی ڈالر ہے۔

بلومبرگ کے فراہم کردہ اعداد وشمار کے مطابق حالیہ دنوں میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں ریال کی قیمت میں بھی نمایاں کمی واقع ہوئی ہے اور سوموار کو ایک ڈالر کے مقابلے میں قطری ریال کی قیمت 3.80 تھی۔یہ اس کی 1988ء کے بعد ڈالر کے مقابلے میں کم ترین قدر ہے۔

قطر میں غیرملکی بنک اپنے مقامی صارفین کی درآمدات اور بعض تجارتی سرگرمیوں کے لیے ڈالر کی ضرورت کو پورا کرنے کی غرض سے آف شور مارکیٹ سے بھاری قیمت میں اس کرنسی کو خرید کررہے ہیں اور وہ اس اضافی قیمت کا بوجھ یقینی طور پر اپنے صارفین ہی پر منتقل کریں گے۔