.

افغانستان کی دو مساجد میں خودکش حملے، 72 ہلاکتیں

حملے داعش نے کئے، پاکستان کا متاثرہ خاندانوں سے اظہار ہمدردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان میں دو مساجد پر خودکش حملوں کے نتیجے میں 72 سے زائد افراد جاں بحق جب کہ درجنوں زخمی ہوگئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق افغانستان کے دارالحکومت کابل میں امام زمان مسجد میں خودکش بمبار نے گھس کر نمازیوں پر فائرنگ شروع کر دی اورپھر خود کو دھماکے سے اڑادیا جس کے نتیجے میں 40 افراد جاں بحق اور 45 زخمی ہوگئے جنہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا جہاں بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

کابل دھماکے کے کچھ ہی دیر بعد افغانستان کے صوبے غور کی مسجد میں بھی خودکش حملے کے نتیجے میں 20 سے زائد افراد جاں بحق اور 10 زخمی ہو گئے۔ ترجمان افغان وزارت داخلہ کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کرکے تحقیقات شروع کردی ہیں۔

دوسری جانب شدت پسند تنظیم داعش نے دھماکے کی ذمہ داری قبول کرلی جب کہ افغان صدر اشرف غنی نے دھماکوں کی مذمت کرتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا۔

پاکستان کا اظہار ہمدردی

درایں اثنا پاکستان نے افغانستان میں مساجد پر خودکش حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ نفیس ذکریا نے کہا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کی لعنت کے مکمل خاتمے کیلئے پرعزم ہے۔

ہفتہ کو ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں افغانستان کے علاقوں کابل اور غور میں مساجد پر خودکش حملوں کی سخت مذمت کی گئی۔

نفیس ذکریا کا کہنا ہے کہ پاکستانی حکومت اور عوام دکھ کی اس گھڑی میں افغان حکومت اور عوام کے ساتھ ہے۔ دہشت گردی سے متاثرہ خاندانوں سے اظہار افسوس کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے اور دہشت گردی کی لعنت کے مکمل خاتمے کیلئے پرعزم ہے۔