.

حوثیوں کا معزول صدر کو باب الیمن میں پھانسی دینے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں حوثی ملیشیا کے ذرائع ابلاغ نے جمعہ کے روز بغاوت میں اپنے بنیادی شراکت دار معزول صدر علی عبداللہ صالح پر کڑی نکتہ چینی کی تمام حدوں کو پار کر لیا۔ حوثی میڈیا نے معزول صالح پر غداری کا الزام عائد کرتے ہوئے باب الیمن میں سرعام سولی دینے کا مطالبہ کر دیا۔

حوثیوں کے سرکاری چینل "المسيرہ" کے مطابق معزول صالح اس وقت اپنے حلیف اور حوثی ملیشیا کے سرغنے عبدالملک الحوثی سے دست بردار ہو کر یمن سے باہر فرار کی کوشش کر رہے ہیں۔ چینل کا اشارہ صالح کے اس بیان کی جانب تھا جس میں انہوں نے کہا کہ وہ ماسکو کانفرنس میں شرکت کے لیے روس کی دعوت پر غور کر رہے ہیں۔

ادھر حوثیوں کے زیر انتظام ایف ایم ریڈیو نے بھی جمعہ کے روز اپنی نشریات کا زیادہ تر حصہ معزول صالح پر تنقید اور نکتہ چینی کی نذر کر دیا۔ ایف ایم کے سربراہ اور حوثی رہ نما حمود شرف الدین نے براہ راست نشریات میں ہوا کے دوش پر معزول صالح کے قتل کا مطالبہ کیا اور ان کو گھٹیا نوعیت کے خطابات سے نوازا۔

حوثی ملیشیا کی قیادت نے اپنی توپوں کا رخ معزول صدر علی عبداللہ صالح کی جانب کرتے ہوئے ان کو غداری اور مکر و فریب کا مورود الزام ٹھہرایا۔ ساتھ ہی یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ معزول صدر کو بابِ یمن (صنعاء میں ایک تاریخی مقام) پر سرِ عام "پھانسی" چڑھا دیا جائے کیوں کہ وہ حوثیوں کے ساتھ شراکت داری ختم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

باغیوں کے سرغنے کے ایک عزیز عبدالقدوس طہ الحوثی نے اپنے عناصر سے مطالبہ کیا کہ وہ دھیرے دھیرے معزول صالح کی رہائش گاہ کی جانب بڑھیں تا کہ انہیں کھینچ کر بابِ یمن لے جایا جائے اور وہاں تختہ دار پر لٹکا دیا جائے۔ معزول صالح کی سیاسی جماعت جنرل پیپلز کانگریس نے دو روز قبل حوثیوں کے سیاسی بیورو کو بھیجے گئے ایک خط میں پہلی مرتبہ

سرکاری طور پر حوثیوں کے ساتھ شراکت داری ختم کرنے کی دھمکی دی تھی۔ یہ دھمکی حوثی قیادت کے ہاتھوں صالح کی جماعت کے رہ نماؤں کو "اہانت" کا نشانہ بنانے کے خلاف احتجاجا دی گئی۔

دوسری جانب حوثیوں کے سیاسی بیورو کے سربراہ صالح الصماد نے مذکورہ خط کے جواب میں ایک طویل جواب بھیجا جس میں معزول صالح کی جماعت پر الزمات کی بھرمار کر دی۔

یاد رہے کہ یمن میں بغاوت میں شریک فریقین کے درمیان دراڑ کے ابتدائی آثار اگست میں ظاہر ہوئے تھے جب دونوں فریقوں نے ایک دوسرے پر "غداری" کے الزامات عائد کیے۔ بعد ازاں صنعاء میں ہونے والی جھڑپوں میں فریقین کے عناصر ہلاک اور زخمی بھی ہوئے۔ اس کے بعد سے تناؤ اور کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور مصالحت کی تمام تر کوششیں بے فائدہ ثابت ہو چکی ہیں جب کہ فیصلہ کن معرکہ آرائی کا انتظار جاری ہے۔