.

کابل میں خودکش بم حملہ، 15 زیر تربیت کیڈٹ ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ایک فوجی اڈے پر خودکش بم دھماکے میں پندرہ زیر تربیت فوجی ہلاک ہوگئے ہیں۔

افغان وزارت ِ دفاع کے ترجمان دولت وزیر نے بتایا ہے کہ ’’ ہفتے کی سہ پہر کابل کے مغرب میں وقع ملٹری اکیڈمی سے ایک منی بس کیڈٹوں کو چھوڑنے کے لیے باہر نکل رہی تھی،اس دوران ایک پیدل خودکش حملہ آور اس کے نزدیک خودکو دھماکے سے اڑا دیا۔اس حملے میں پندرہ کیڈٹ شہید اور چار زخمی ہوئے ہیں‘‘۔

کابل کرائم برانچ کے سربراہ جنرل محمد سلیم الماس کا کہنا ہے کہ اس حملے کی تحقیقات شروع کردی گئی ہے۔انھوں نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ منی بس میں زیر تربیت فوجی سوار تھے اور وہ اپنے گھروں کو واپس جا رہے تھے۔فوری طور پر کسی گروپ نے اس خودکش حملے کی ذمے داری قبول نہیں کی ہے۔

افغان دارالحکومت میں گذشتہ چوبیس گھنٹے میں یہ دوسرا خودکش بم دھماکا ہے اور گذشتہ منگل کے بعد یہ ساتواں بڑا خودکش بم حملہ ہے۔ان بم حملوں میں دوسو سے زیادہ افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوگئے ہیں۔مہلوکین اور مجروحین میں زیادہ تعداد سکیورٹی اہلکاروں کی ہے۔

یہ گذشتہ پانچ روز میں جنگجوؤں کا افغان سکیورٹی فورسز پر پانچواں بڑا حملہ تھا۔جنوبی صوبے قندھار کے ضلع میوند میں جمعرات کو ایک تباہ کن بم دھماکے میں پچاس افغان فوجی ہلاک ہوگئے تھے۔طالبان مزاحمت کاروں نے اس حملے کی ذمے دار ی قبول کی تھی۔

جمعہ کو افغانستان میں دو الگ الگ مساجد میں خود کش بم حملوں میں ساٹھ افراد مارے گئے تھے۔ جنوب مشرقی صوبے پکتیا میں پولیس کے ایک مرکز پر خودکش کار بم دھماکے اور خودکار ہتھیاروں سے حملے میں بتیس افراد مارے گئے تھے اور دو سو سے زیادہ زخمی ہوگئے تھے۔ اس تباہ کن حملے کی بھی طالبان نے ذمے داری قبول کی تھی۔