.

حوثیوں کی طلبہ کو محاذوں پر بھیجنے کی تجویز پر سخت عالمی ردّ عمل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

صنعاء میں باغیوں کی حکومت میں نوجوانوں اور کھیلوں کے وزیر حسن زید کی جانب سے اسکول کے طلبہ کو لڑائی کے محاذوں پر بھیجنے سے متعلق مطالبے پر یمنی حلقوں کی طرف سے شدید مذمت کا سلسلہ جاری ہے۔ غیر ملکی میڈیا نے بھی حسن زید کے بیان کو نمایاں طور پر اجاگر کیا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس مطالبے نے بچوں کی بھرتی کو بڑھانے اور انہیں محاذوں پر جھونک دینے سے متعلق حوثیوں کے ارادوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔

باغیوں کی حکومت میں نوجوانوں اور کھیلوں کے وزیر کو اس حقیقت کا ادراک نہیں تھا کہ اسکول کے بچوں کے استحصال سے متعلق ان کی تجویز کو عالمی اخبارات اور میڈیا کی توجہ حاصل ہو جائے گی۔

برطانوی اخبار گارڈیئن نے خبر پر روشنی ڈالتے ہوئے شدید اور غضب ناک ردود عمل کا بھی ذکر کیا ہے۔ اخبار کی جانب سے شائع ایک ردّ عمل میں تجویز پیش کی گئی ہے کہ طلبہ کو ان کے اسکولوں میں رہنے دیا جائے اور وزراء اور ان کے محافظین کو محاذوں پر بھیجا جائے تا کہ کامیابی حاصل ہونے کے ساتھ ایک تابناک مستقبل کی ضمانت بھی حاصل ہو۔

حوثی وزیر کی یہ تجویز براعظم یورپ کے ذرائع ابلاغ میں بھی گردش کرتی رہی۔

یمن کے حالات پر نظر رکھنے والے حلقوں کا کہنا ہے کہ حوثی وزیر حسن زید کی جانب سے بچوں کی بھرتی اور ان کو لڑائی کے محاذوں پر بھیجنے کی تجویز درحقیقت حوثی ملیشیا کے ہاتھوں یمن کا مستقبل تباہ کرنے کی کوششوں کی ایک کڑی ہے۔