.

آکسفورڈ کے پروفیسر نے فرانسیسی مصنفہ کے سنگین الزامات کی تردید کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوئس ماہر تعلیم اور آکسفورڈ یونیورسٹی لندن کے پروفیسر طارق رمضان نے اپنے خلاف فرانسیسی مصنفہ ہندہ عیاری کے عاید کردہ سنگین الزامات کی تردید کردی ہے اور انھیں من گھڑت قرار دیا ہے۔

طارق رمضان مصر کی قدیم مذہبی وسیاسی جماعت (اب سرکاری طور پر کالعدم) اخوان المسلمون کے بانی حسن البنا مرحوم کے پوتے ہیں۔وہ آکسفورڈ یونیورسٹی کے سینٹ انتھونی کالج کے شعبہ مشرقی علوم میں معاصر اسلامی مطالعات کے پروفیسر ہیں۔

انسانی حقوق کی کارکن اور سلفی اسلام کو چھوڑ کر’’ آزاد‘‘ ہونے والی ہندہ عیاری نے گذشتہ جمعہ کو ان کے خلاف عصمت ریزی ، ہراسیت ،تشدد اور ڈرانے دھمکانے کے الزامات میں شکایت دائر کی ہے۔انھوں نے ’’ میں نے آزاد ہونے کا انتخاب کیا‘‘ کے عنوان سے ایک کتاب بھی لکھ رکھی ہے۔ یہ نومبر 2016 ء میں شائع ہوئی تھی۔

اس میں انھوں نے زبیر نامی ایک شخص کا ذکر کیا ہے اور وہ بتاتی ہیں کہ انھوں نے ایک ہوٹل میں زبیر سے ملاقات کی تھی۔ان صاحب نے وہاں ایک لیکچر دیا تھا اور وہ سننے کے بعد وہ ملاقات کے لیے گئی تھیں۔

ہوٹل میں اس عورت کے بہ قول زبیر کے خراب نیت سے آگے بڑھنے پر وہ پیچھے ہٹ گئی تھی۔اس پر وہ صاحب چلّائے،عورت کو برا بھلا کہا اور اس سے تشدد آمیز سلوک کیا۔

ہندہ نے فیس بُک پر ایک پوسٹ میں لکھا ہے:’’ یہ زبیر نامی شخص کوئی اور نہیں ،طارق رمضان ہیں‘‘۔اس عورت کے وکیل کا کہنا ہے کہ ان کی مؤکلہ نے پہلے خوف کی وجہ سے اس مبینہ جنسی حملے کی اطلاع نہیں دی تھی اور اب اس نے اپنے ساتھ ہونے والے ناروا سلوک کو رپورٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

تاہم آزاد ذرائع سے ہند عیاری کے ان الزامات کی تصدیق ممکن نہیں ہے اور نہ انھوں نے یہ بتایا کہ آیا انھوں نے اس سے پہلے کسی سے اس واقعے کا ذکر کیا تھا۔پروفیسر طارق رمضان نے اس عورت کے ان الزامات کو مسترد کردیا ہے اور انھوں نے کہا ہے کہ وہ اس کے خلاف ہتک ِعزت کا مقدمہ چلائیں گے۔