.

خبردار ہوشیار! زائد المیعاد مصنوعی سیارے کا ملبہ فضائی غلاف سے ٹکرانے والا ہے

پاکستان، افغانستان، بھارت سمیت قطر، یو اے ای اور سعودی عرب ملبے کی زد میں آ سکتے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات کی خلائی ایجنسی نے ٹویٹر پیغام میں کہا ہے کہ اگلے 48 گھنٹوں کے دوران زائد المیعاد مصنوعی سیارے کا ملبہ فضائی غلاف سے ٹکرائے گا۔

دوسری جانب سلطنت عمان میں فلکیات کے عالمی مرکز کے ڈرائریکٹر محمد شوکت عودہ نے امکان ظاہر کیا ہے کہ مصنوعی سیارے کا ملبہ پیر کو گر سکتا ہے تاہم کہاں اور کس وقت گرے گا، اس کی پیش گوئی نہیں کی جا سکتی۔ ایک امکان یہ ہے کہ مصنوعی سیارے کا گرینچ ٹائم کے مطابق 10 بجکر 5 منٹ پر گرے گا۔ اس میں وقت آگے پیچھے ہو سکتا ہے۔ ملبہ امریکا کے مغرب میں گرے گا۔

مسٹر عودہ کا کہنا ہے کہ جہاں جہاں بھی مصنوعی سیارے کا ملبہ گرنے کا امکان ہے ان کی نشاندہی سرخ اور سبز لائنوں کے ذریعہ کرلی گئی ہے۔ صومالیا، یمن، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطرکے علاوہ پاکستان، ہندوستان اور افغانستان اس کی زد میں آ سکتے ہیں۔ مصنوعی سیارہ موثر ہونے کی حالت میں زمین کے اطراف گردش کر رہا تھا۔ ہر بارہ گھنٹے میں ایک چکر مکمل کر رہا تھا۔ مصنوعی سیارے کا ٹکڑا 3.4 میٹر لمبا، اس کا قطر 1.6میٹر اور وزن 1600 کلو گرام ہے۔