.

داعش "خلافت" کے اعلان کے لیے ورچوئل ورلڈ کا سہارا لے گی: ماہرین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بین الاقوامی ماہرین اور ذمے داران نے خبردار کیا ہے کہ عراق اور شام میں زمینی طور پر شکست کے دہانے پر پہنچ جانے والی تنظیم داعش انٹرنیٹ کی فضاؤں میں "فرضی خلافت" قائم کرنے کے لیے کام کرے گی۔ تنظیم اس اقدام کے ذریعے اپنے حامیوں کے ساتھ رابطے اور شدت پسندوں کی بھرتی کا سلسلہ جاری رکھے گی۔

سوشل میڈیا پر تنظیم نے غیر مسبوق نوعیت کا پھیلاؤ ظاہر کیا ہے جہاں اس کو سپورٹ ، مالی معاونت اور جنگجوؤں کی بھرتی میں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔

ماہرین کے نزدیک داعش ابھی تک انٹرنیٹ کے ذریعے پروپیگنڈہ پھیلا کر اپنے ذیلی گروہوں کو متحرک ہونے کے لیے اکسا رہی ہے اور اس میدان میں تنظیم کو جڑ سے اکھاڑنا عسکری آپریشن سے کہیں زیادہ مشکل ہو سکتا ہے۔

اطالوی وزیر خارجہ مارکو مینیٹی کے نزدیک داعش کے 80% حامیوں اور ہمدردوں کو انٹرنیٹ کے ذریعے کھینچ کر لایا گیا اور غالب گمان ہے کہ تنظیم "ورچوئل ورلڈ" میں پناہ حاصل کر لے گی۔

ادھر امریکی مرکزی کمان کے کمانڈر جنرل جوزف ووٹل رواں سال کے اوائل میں خبردار کر چکے ہیں کہ زمینی لڑائی میں داعش پر قابو پالینا ہر گز کافی نہ ہو گا۔

ماہرین کے نزدیک عسکری ضربوں کے سبب انٹرنیٹ کے ذریعے تنظیم کی رابطہ کاری کی صلاحیت متاثر ہونے کے باوجود اس کے سائبر پلیٹ فارم رُکے نہیں ہیں۔

انٹرنیٹ کی خدمات فراہم کرنے والی بڑی کمپنیوں نے حکومتی دباؤ کے تحت داعش کو انٹرنیٹ استعمال کرنے سے روکنے کے لیے اقدامات کیے مگر داعش نے اس میدان میں ڈٹے رہنے اور ہم آہنگ ہونے کے حوالے سے بڑی قدرت اور صلاحیت کا اظہار کیا۔