.

امیرِ قطر نے شام میں القاعدہ کی مدد کا اعتراف کیا : امریکی رکن کانگریس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

واشنگٹن میں منعقد ایک کانفرنس میں امریکی کانگریس کے ذمے داران اور امریکی انتظامیہ میں کام کرنے والی دیگر شخصیات نے قطر سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایک طرف اپنے حلیفوں اور دوسری طرف ایران اور الاخوان المسلمین میں سے کسی کو منتخب کرنے کے حوالے سے فیصلہ کن موقف کا اعلان کرے۔

کانفرنس سے خطاب کرنے والی نمایاں ترین شخصیات میں صدر باراک اوباما کے دور میں سابق وزیر دفاع لیون پینیٹا شامل تھے جو امریکی مرکزی انٹیلی جنس ایجنسی CIA کے سربراہ بھی رہ چکے ہیں۔ پینیٹا نے باور کرایا کہ قطر نے دہشت گرد تنظیموں کو مالی رقوم فراہم کیں۔ انہوں نے کہا کہ "قطر کا ملا جلا ریکارڈ رہا ہے ، ہم جانتے ہیں کہ اس نے الاخوان المسلمین اور حماس کے علاوہ القاعدہ اور طالبان کی بھی فنڈنگ کی"۔ پینیٹا کے مطابق "قطر کے امریکا کے ساتھ مضبوط تعلقات ہیں۔ وہ اپنی سرزمین پر ایک بڑے امریکی فوجی اڈے کی میزبانی کر رہا ہے اور اسی دوران القاعدہ جیسی تنظیموں کو مالی رقوم بھی فراہم کر رہا ہے جن کو امریکا دہشت گرد قرار دے چکا ہے"۔

ہم نے القاعدہ کی مدد کی : امیرِ قطر

امریکی ایوان نمائندگان کے ریپبلکن رکن روبرٹ بیٹنگز نے جو کانگریس میں انسداد دہشت گردی کی ذیلی کمیٹی کے رکن بھی ہیں انہوں نے انکشاف کیا کہ وہ امیرِ قطر سے تین مرتبہ مل چکے ہیں اور واشنگٹن میں قطر کے سفیر سے بھی ان کی کئی ملاقاتیں ہو چکی ہیں۔ بیٹنگز نے واضح طور پر کہا کہ " امیرِ قطر مجھ سے یہ کہہ چکے ہیں کہ ہم نے شام میں القاعدہ کی مدد کی کیوں کہ ہم بشار (شامی حکومت کا سربراہ) کو ناپسند کرتے ہیں"۔

واشنگٹن کے ہڈسن انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے منعقد کی جانے والی اس کانفرنس میں امریکی کانگریس کے ارکان کی ایک بڑی تعداد بالخصوص خارجہ اور انٹیلی جنس کمیٹی کے ارکان نے شرکت کی۔ خارجہ کمیٹی کے سربراہ اِڈ روئس نے زور دے کر کہا کہ قطر پر لازم ہے کہ وہ اپنی ذمے داریوں کی پاسداری کرے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ عدم پاسداری کی صورت میں دوحہ کا احتساب کیا جانا چاہیے۔

گروپ چار کے مطالبات کا مثبت جواب

اسی طرح کانگریس کے اور دیگر سابق سرکاری ذمے داران نے اس جانب اشارہ کیا کہ مشرق وسطی میں تمام تر خطرات دو ذرائع سے جنم لیتے ہیں۔ ایک ایران اور اس کی ہمنوا تنظیموں مثلا حزب اللہ وغیرہ اور دوسرا الاخوان اور اس کے نظریات کی حامل دیگر جماعتیں مثلا حماس ، القاعدہ اور داعش وغیرہ۔

امریکی ایوان نمائندگان نے قطر کے ان تنظیموں اور ایران کے ساتھ تعلقات کے خطرے پر بھی روشنی ڈالی۔ اس موقع پر جنرل ڈیوڈ پیٹریاس نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ "خلیج تعاون کونسل میں پھوٹ کے ساتھ ہمارا باہمی بقاء ممکن نہیں ہے"۔

امریکی صدر کے سابق مشیر اسٹیو بینن نے باور کرایا کہ ڈونلڈ ٹرمپ قطر سے مطالبہ کر چکے ہیں کہ وہ گروپ چار کے مطالبات کا مثبت جواب دے۔ انہوں نے کانفرنس کے شرکاء کو ریاض میں ہونے والی اسلامی امریکی کانفرنس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ "اس کانفرنس میں ہمارا اس بات پر اتفاق ہوا تھا کہ دہشت گردی کی فنڈنگ کا سلسلہ سو فی صد منقطع کر دیا جائے گا۔ میں سمجھتا ہوں کہ امارات ، مصر اور سعودی عرب میں ہمارے حلیف اس کے پیچھے تھے"۔