.

حزب اللہ کے ہاتھوں ہلاک امریکی فوجیوں کو نہیں بُھولیں گے : ٹرمپ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باور کرایا ہے کہ ان کا ملک بیروت میں حزب اللہ کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے 241 امریکی فوجیوں کو ہر گز نہیں بُھولے گا۔ ٹرمپ کا اشارہ 1983 میں لبنان میں ہونے والے "میرینز ہیڈ کوارٹر دھماکے " کی جانب تھا۔

پیر کی شب اپنی ٹوئیٹ میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ "ان لوگوں نے قوم کی خدمت انجام دیتے ہوئے اپنی جانیں پیش کیں"۔

ٹرمپ کی یہ ٹوئیٹ امریکی نائب صدر مائیک پنس کے پیر کے روز جاری بیان کے بعد سامنے آئی ہے جس میں مائیک نے مذکورہ دھماکے کے 34 سال مکمل ہونے کی یاد مناتے ہوئے کہا کہ "بیروت میں میرینز ہیڈ کوارٹر کا دھماکا دہشت گردی کے خلاف جنگ بھڑکانے کے لیے پہلا شرارہ تھا۔ ہم اس جنگ کو اپنی شرائط کے مطابق دہشت گردوں کی سرزمین منتقل کر دیں گے"۔

امریکی نائب صدر نے زور دے کر کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ حزب اللہ سبوتاژ کرنے کے لیے اپنی کوششوں میں نمایاں طور پر اضافہ کر رہے ہیں۔ مائیک پنس کے مطابق "لبنانی ملیشیا حزب اللہ ایک دہشت گرد جماعت ہے جو دہشت گردی کے بنیادی سرپرست یعنی ایران کی ایجنٹ ہے"۔

مائیک نے باور کرایا کہ صدر ٹرمپ کسی طور بھی ایران کی منصوبہ بندی کے سامنے تماشائی بن کر کھڑے نہیں رہیں گے۔

ادھر امریکی قومی سلامتی کے مشیر ہربرٹ مکماسٹر نے پیر کے روز کہا ہے کہ جن لوگوں نے 1983 میں لبنان میں میرینز کے ہیڈ کوارٹر کو دھماکے سے اڑایا وہ آج حزب اللہ کے رہ نما بن چکے ہیں۔ ہربرٹ نے زور دے کر کہا کہ عالمی برادری پر لازم ہے کہ وہ ایران اور اس کے ایجنٹوں کی جانب سے دنیا بھر میں امن کی کوششوں کو ناکام بنانے کے واسطے کیے جانے والے دہشت گرد حملوں پر روک لگائے۔