.

سعودی عرب : 500 ارب ڈالرز سے زیادہ سرمایہ کاری کے حامل ’’ نیوم‘‘ منصوبے کا افتتاح

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے نیوم کے نام سے ایک نیا ترقیاتی منصوبہ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت آیندہ برسوں میں سعودی عرب پانچ سو ارب ڈالرز سے زیادہ کی سرمایہ کاری سے جدید خطوط پر ایک اقتصادی زون قائم کرے گا۔

نیوم اقتصادی زون مصر اور اردن کے سرحدی علاقے تک پھیلا ہوگا اور یہ پہلا نجی منصوبہ ہے جس میں تین ممالک حصے دار ہوں گے۔اس کے لیے ہوا اور شمسی توانائی سے بجلی پیدا کی جائے گی اور دنیا بھر کی آبادی میں سے 70 فی صد لوگ کہیں سے بھی آٹھ گھنٹے کی مسافت کے بعد اس اقتصادی زون تک پہنچ سکیں گے۔

نیوم کے منصوبے کو ’’مستقبل کی منزل ‘‘قرار دیا گیا ہے۔اس کو سعودی عرب کے ویژن 2030ء کے تحت وضع کیا گیا ہے۔اس کے نمایاں خدو خال حسب ذیل ہیں:

۰۰نیوم سب سے محفوظ ، سب سے موثر ،مستقبل بینی پر مبنی اور کام اور رہنے کے لیے ایک بہترین ماحول فراہم کرے گا۔

۰۰نیوم کو سعودی مملکت کے موجودہ سرکاری فریم ورک کے تحت آزادانہ طور پر وضع کیا گیا ہے اور ہر مرحلے میں سرمایہ کاروں ، کاروباری افراد اور جدت پسندوں سے مشاورت کی گئی ہے۔اس کا انتظام وانصرام سرکاری نظم ونسق سے بالکل الگ اور آزادانہ ہوگا۔

۰۰یہ ایک منفرد محل وقوع کا حامل منصوبہ ہے۔یہ ایشیا ، یورپ اور افریقا کو آپس میں ملائے گا۔اس میں اقتصادی ترقی کے بہترین مواقع ہوں گے۔ یہ سعودی عرب کی شمال مغربی ساحلی پٹی میں واقع ہوگا۔اس کے دو جانب بحیرہ احمر اور ایک جانب خلیج عقبہ واقع ہے۔

۰۰نیوم اقتصادی زون 26500 مربع کلومیٹر رقبے پر محیط ہوگا اور یہ منفرد محل وقوع کی وجہ سے تیز رفتاری سے ابھر کر سامنے آئے گا۔یہاں عرب دنیا ، افریقا ، ایشیا ، امریکا اور یورپ سے تعلق رکھنے والے سرمایہ کاروں اور ماہرین کے لیے کام کے وسیع مواقع دستیاب ہوں گے۔

۰۰سعودی عرب نیوم کے منصوبے کے تحت آیندہ برسوں کے دوران میں پانچ سو ارب ڈالرز سے زیادہ کی سرمایہ کاری کرے گا۔سعودی عرب کے سرکاری سرمایہ کاری فنڈ کے علاوہ مقامی اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کی جانب سے بھی اس منصوبے میں بھاری سرمایہ کاری متوقع ہے۔

شہزادہ محمد بن سلمان نے الریاض میں ایک تقریب میں نیوم کے افتتاح کے موقع پر ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’نیوم کا مقصد سعودی مملکت کو صنعت اور ٹیکنالوجی کا بڑا عالمی مرکز بنانا ہے۔اس کے تحت مختلف شعبہ ہائے زندگی میں سرمایہ کاری کی جائے گی ۔البتہ نو خصوصی شعبوں پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔ ان میں توانائی اور پانی ، بائیو ٹیکنالوجی ، خوراک ، ٹیکنالوجیکل اور ڈیجیٹل سائنسز ، جدید مینوفیکچرنگ ، میڈیا اور تفریح کے شعبے شامل ہیں‘‘۔

بیان کے مطابق :’’ان شعبوں میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری سے سعودی معیشت کی شرح نمو اور مجموعی قومی پیدا وار میں نمایاں اضافہ ہوگا۔معیشت کو متنوع بنانے میں ملے گی، بین الاقوامی کمپنیوں کے تعاون سے مقامی صنعت کو ترقی ملے گی ، مقامی آبادی کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے‘‘۔

نیوم دنیا کے محفوظ ترین علاقوں میں سے ایک ہوگا اور سکیورٹی اور تحفظ کے شعبے میں مستقبل کی ٹیکنالوجیز کو اختیار کیا جائے گا۔اس سے شہری زندگی کا معیار بلند ہوگا اور مکینوں ، زائرین اور سرمایہ کاروں کے تحفظ اور سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے گا۔

اس اقتصادی زون میں مہیا کی جانے والی تمام خدمات اور دفتری کام 100 فی صد خود کار ہوگا تاکہ اس کو کام کے حوالے سے دنیا کی سب سے موثر ترین جگہ بنایا جا سکے۔یہاں قانونی ، سرکاری اور سرمایہ کاری کی رفتار کار بھی خود کار ہوگی۔اس کے علاوہ پائیداری کے اعلیٰ معیارات کو اختیار کیا جائے گا۔رقوم کا تمام لین دین کاغذ کے بغیر یعنی برقی ذرائع سے ہوگا اور کلیم بھی اسی طرح نمٹائے جائیں گے۔