.

سعودی ولی عہد کا انتہا پسندی کے فوری اور مکمل استیصال کا عزم

سعودی عرب میں اعتدال پسند اور کھلے پن کے حامل اسلام کے فروغ پر زور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے مملکت میں اعتدال پسند اسلام کو بحال کرنے اور انتہا پسند نظریات کے حاملین کو فوری طور پر تباہ کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

انھوں نے منگل کے روز دارالحکومت الریاض میں منعقدہ ایک اقتصادی فورم میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ہم جو کچھ پہلے تھے،اسی کی جانب لوٹ رہے ہیں۔یعنی اعتدال پسند اسلام کے حامل ملک کی جانب، یہ ملک تمام مذاہب کے پیروکاروں اور دنیا کے لیے کھلا ہے اور کھلا رہے گا‘‘۔

انھوں نے کہا کہ ’’ہم اپنی زندگیوں کے اگلے تیس سال تخریبی نظریات سے نمٹنے میں نہیں گزاریں گے بلکہ ہم انھیں آج ہی تباہ کردیں گے‘‘۔انھوں نے اس عزم صمیم کا اظہار کیا ہے کہ ’’ہم بہت جلد انتہا پسندی کا خاتمہ کردیں گے ‘‘۔

سعودی ولی عہد کا یہ بیان مملکت کی بااثر قدامت پسند مذہبی اسٹیبلشمنٹ پر براہ راست ایک حملہ خیال کیا جاسکتا ہے۔ان کا اشارہ مذہبی انتہا پسندوں کی جانب ہی تھا۔

قبل ازیں انھوں نے سعودی عرب کی شمال مغربی ساحلی پٹی میں نوم کے نام سے ایک آزاد اقتصادی زون کے قیام کا اعلان کیا ہے۔اس منصوبے کا انتظام وانصرام سعودی عرب کے عام سرکاری نظم ونسق سے بالکل الگ تھلگ اور آزاد ہوگا۔