.

بھارتی وزیر اعظم کے منہ پر چوڑیاں مارنے والی خاتون گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عالمی شخصیات سے اظہار نفرت کے لئے جوتا اچھالنے کی روایت کافی پرانی ہے، تاہم اس قدیم روایت میں جدید اضافہ بھارت میں اس وقت دیکھنے کو ملا جب ہندوستانی وزیراعظم نریندر مودی کے چہرے پر ریاست گجرات کے شہر ودودرا میں روڈ شو کے دوران چلتی گاڑی میں خاتون نے چوڑیاں دے ماریں۔

نریندرا مودی مختلف منصوبوں کے افتتاح کے سلسلے میں گجرات میں موجود تھے۔ وہ گجرات کے شہر ودودرا کے علاقے نولاکھی گراؤنڈ سے اپنی گاڑی میں ائیرپورٹ کی جانب جا رہے تھے۔

مسٹر مودی کی آمد کا سن کرعلاقے کے لوگوں کی بڑی تعداد بھی وہاں موجود تھی اور پُرجوش نعرے لگا رہی تھی، مودی بھی ہاتھ ہلا کر لوگوں کے نعروں کا جواب دے رہے تھے کہ اچانک ہی بھیڑ میں موجود ’’آشا‘‘ نامی غیر حکومتی انجمن سے تعلق رکھنے والی خاتون چندریکا سولنکی نے مودی کے چہرے پر اپنی چوڑیاں دے ماریں۔

یہ دیکھ کر پہلے تو مودی ہکا بکا رہ گئے تاہم بغیر کوئی رد عمل ظاہر کئے وہاں سے چلے گئے جبکہ مودی کی سیکیورٹی پر مامور افسران نے خاتون کو گرفتار کرلیا۔

چوڑیاں کیوں پھینکیں

بھارتی میڈیا کے مطاق خاتون کا نام چندریکا سولنکی ہے اور اس کا تعلق ایک این جی او’’آشا‘‘سے ہے۔ ایک سوشل ورکر جگنیش نے ٹویٹ کرتے ہوئے چندریکا کی جانب سے مودی پر چوڑیاں پھینکنے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ گجرات کے وزیر اعلیٰ ’’آشا‘‘ میں کام کرنے والی خواتین کو کم ازکم 45 ہزار روپے اجرت دینے پر راضی نہیں ہیں یہی وجہ ہے کہ سولنکی نے یہ حرکت کی۔ چندریکا سولنکی کی مودی پر چوڑیاں پھینکنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی ہے۔

واضح رہے کہ ’’آشا‘‘میں کام کرنے والی خواتین کا مطالبہ ہے کہ انہیں مستقل حکومتی ملازمین کے برابرسہولیات دینے کے ساتھ شناختی کارڈ جاری کیے جائیں۔ کام کے اوقات مقرر کئے جائیں اور زچگی کی چھٹیاں بھی دی جائیں۔ تاہم حکومت بار بار مطالبہ کرنے کے باوجود ان کے مطالبات نہیں مان رہی لہٰذا سولنکی نے احتجاجاً مودی پر چوڑیاں پھینکی ہیں۔