.

ترکی :سابق خاتون وزیر نے نئی جماعت بنا لی ، صدر ایردوآن کو چیلنج کرنے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کی سابق وزیر داخلہ اور پارلیمان کی سابق ڈپٹی اسپیکر میرل اکسنیر نے نئی جماعت بنا لی ہے اور 2019ء میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں صدر رجب طیب ایردوآن کے مد مقابل میدان میں اُترنے کا اعلان کردیا ہے۔

اکسٹھ سالہ میرل اکسنیر نے بدھ کو انقرہ میں ایک اجلاس میں وسطی، دائیں بازو کی جماعت ’’اچھی پارٹی‘‘ کے قیام کا اعلان کیا ہے۔اس نوزائیدہ جماعت کے بانیوں میں اس سال کے اوائل میں ترکی کی قوم پرست جماعت سے ناتا توڑنے والے ارکان پارلیمان بھی شامل ہیں۔

ترک پارلیمان کے ان ارکان نے اپنی سابقہ قوم پرست جماعت کی جانب سے صدر ایردوآن کی ریفرینڈم میں حمایت کی مخالفت کی تھی اور جماعت کے اس فیصلے پر ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے الگ ہوگئے تھے۔

واضح رہے کہ میرل اکسنیر ترکی کی پہلی خاتون وزیر داخلہ تھیں۔ وہ 1996 ء اور 1997ء میں اسلامی جماعت کی بالادستی والی مخلوط حکومت میں اس منصب پر فائز رہی تھیں۔اس مخلوط حکومت کو فوج کے دباؤ پر آئینی مدت پوری ہونے سے قبل ہی برطرف کردیا گیا تھا۔

میرل اکسنیر نے اپنی جماعت کے تاسیسی اجلاس میں کہا ہے کہ وہ صدر ایردوآن کے خلاف آیندہ صدارتی انتخاب میں بطور امیدوار حصہ لے سکتی ہیں۔