.

پیرس : حسن البنا کے پوتے سے "سرکاری" تحقیقات ہوں گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پیرس میں عدالتی ذریعے نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ فرانسیسی استغاثہ نے سوئس ماہر تعلیم اور آکسفورڈ یونیورسٹی لندن کے پروفیسر طارق رمضان کے خلاف فرانسیسی مصنفہ ہندہ عیاری کے عاید کردہ سنگین الزامات کی تحقیقات کا فیصلہ کر لیا ہے۔

فرانسیسی میڈیا کے مطابق مصر کی کالعدم جماعت الاخوان المسلمون کے بانی حسن البنا مرحوم کے 55 سالہ پوتے سے عصمت ریزی ، ہراسیت ، تشدد اور ڈرانے دھمکانے کے الزامات کے حوالے سے پوچھ گچھ ہو گی۔

ہندہ عیاری نے اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعے کی تفصیلات "میں نے آزاد ہونے کا انتخاب کیا" کے نام سے لکھی اپنی خودنوشت میں کیا ہے۔ تاہم انھوں نے سکیورٹی وجوہات کی بِنا پر اپنی آبرو پر حملہ کرنے والے شخص کی شناخت کا ذکر نہیں کیا تھا اور اسے "زبیری" کا فرضی نام دیا۔ یہ کتاب نومبر 2016 ء میں شائع ہوئی تھی۔

دوسری جانب پروفیسر طارق رمضان نے اپنے وکیل یاسین بوزرو کے ذریعے سرکاری طور پر ان دعوؤں کو مسترد کر دیا اور اپنے طور پر ہندہ عیاری کے خلاف مقدمہ دائر کیا ہے۔

اس حوالے سے ہندہ نے باور کرایا ہے کہ وہ رمضان سے اپنا حق لینے کا مصمم ارادہ کر چکی ہیں خواہ اس میں کتنا ہی وقت درکار ہو۔ ہندہ نے فیس بک اور ٹویٹر پر اپنے بیانات میں کہا ہے کہ انہیں فرانسیسی عدلیہ پر اعتماد ہے اور وہ تمام لوگوں سے مطالبہ کرتی ہیں کہ انھیں سپورٹ کیا جائے تا کہ وہ مقدمہ دائر کرنے کے وقت سے خود کو درپیش سخت مہم کا مقابلہ کر سکیں۔

یاد رہے کہ طارق رمضان آکسفورڈ یونیورسٹی کے سینٹ انتھونی کالج کے شعبہ مشرقی علوم میں معاصر اسلامی مطالعات کے پروفیسر ہیں۔