.

امریکا آنے والے مسافروں کے لیے آج سے نیا ضابطہ اخلاق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ملک میں پناہ گزینوں کا داخلہ دوبارہ شروع کرنے سے متعلق ایک حکم نامے پر دستخط کیے ہیں لیکن ان گیارہ ملکوں سے آنے والے والوں کو کڑی جانچ پڑتال کے عمل سے گذرنا ہوگا جسے امریکا اپنی قومی سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ قرار دیتا ہے۔

امریکی عہدے داروں نے اس فہرست میں شامل ملکوں کا نام بتانے سے انکار کیا ہے، تاہم خبررساں ادارے رائیٹرز نے کہا ہے کہ اس فہرست میں وہ ملک بھی شامل ہیں جن کے شہریوں کو پہلے ہی کڑی جانچ پڑتال اور نگرانی کے عمل سے گذرنا پڑ تا ہے۔

خبررساں اداروں نے کہا ہے کہ ان ملکوں میں مصر، ایران، عراق، لیبیا، مالی، شمالی کوریا، صومالیہ، جنوبی سوڈان، سوڈان، شام اور یمن شامل ہیں۔

منگل کو جاری ہونے والا یہ حکم نامہ صدر ٹرمپ کی ان تازہ ترین کوششوں کا حصہ ہے جس کا وعدہ انہوں نے اپنی انتخابي مہم کے دوران یہ کہتے ہوئے کیا تھا کہ وہ امریکا آنے والے پناہ گزینوں کی تعداد میں کمی کریں گے۔

پناہ گزینوں کی آمد پر پابندی سے متعلق صدر ٹرمپ کے ایکزیکٹو آرڈر کے باوجود جنوری سے اب تک ہزاروں افراد ملک میں داخل ہونے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔ کیونکہ عارضی پابندی کے اس حکم نامے کا راستہ اس کے خلاف عدالتی فیصلوں نے روک دیا تھا۔ بعدازاں امریکی سپریم کورٹ نے یہ کہا تھا کہ ایسے افراد امریکہ آ سکتے ہیں جن کے مستند قریبی رشتے دار یہاں موجود ہیں۔

یومیہ سوا تین لاکھ مسافر متاثر ہوں گے

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکا آنےوالے مسافروں پر نئی سفری شرائط سے یومیہ سوا تین لاکھ متاثر متاثر ہوں گے۔ اندازے کے مطابق روزانہ تین لاکھ 25 ہزار مسافر، دو ہزار کمرشل پروازیں،180 فضائی کمپنیاں اور 105 ملکوں کے 280 ہوائی اڈے بھی ان سے متاثر ہوں گےت۔

خیال رہے کہ امریکا نے رواں سال جون میں بعض ملکوں کے مسافروں پر سفری پابندیوں کے طور پر امریکا آنے والے مسافروں کو الیکٹرانک آلات ساتھ لانے پر پابندی عاید کردی تھی۔ ان میں مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقا کے آٹھ ممالک کے 10 ہوائی اڈوں پر سیکیورٹی خطرات کے پیش نظر مسافروں کو الیکٹرانک آلات ساتھ لانے سے روکا گیا تھا۔

جولائی میں ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ نے ان پابندیوں میں نرمی کے ساتھ کچھ دیگر شرائط عاید کی تھیں۔

امریکی حکام نے ’رائٹرز‘ کو بتایا کہ فضائی کمپنیوں کو نئی شرائط پرعامل درآمد کے لیے 120 دن ہیں۔ اس عرصے میں انہیں امریکا آنے والے مسافروں کی چیکنگ کرنا ہوگی۔