.

اسلحہ سازی: پاکستان، ایران پر ہالینڈ کی ٹیکنالوجی چوری کرنے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ہالینڈ کی حکومت نے انکشاف کیا ہے کہ وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی تیاری کے لیے پاکستان، ایران اور شام نے ہالینڈ کی تیکنیکس استعمال کی تھیں۔

ویب سائیٹ ’ netinnederland‘ کی رپورٹ کے مطابق حکومت کے دو سینیر وزیروں بلومن، کونڈرز اور ڈائکھوف نے پارلیمان کو ایک مکتوب ارسال کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ایران اور شام نے اسلحہ سازی کے لیے ہالینڈ کی مہارتوں اور تیکنیکس کو چوری کرکے استعمال کیا ہے۔

مکتوب میں کہا گیا ہے کہ خفیہ سروس کے ادارے نے ہالینڈ سے اسلحہ سازی اور دیگر حساس نوعیت کی معلومات جمع کرنے اور انہیں بیرون ملک پہنچانے کی کئی کوششیں سالانہ کی بنیادوں پر ناکام بنائیں۔ اس حوالے سے کسٹمز حکام اور پراسیکیوٹر جنرل نے بھی الگ الگ تحقیقات کیں۔

قبل ازیں ہالینڈ کے ملٹری انٹیلی جنس سروسز کے چیف آیخیلز ھائم نے ایک بیان میں کہا تھا کہ شمالی کوریا، ایران اور پاکستان جیسے ممالک نے ہالینڈ میں اپنے ایجنٹ بٹھا رکھے ہیں جو ہالینڈ کی تیکنیکوں کو چوری کر کے ان ملکوں تک پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گذشتہ بدھ کو امریکی کانگریس نے ایران کے متنازع بیلسٹک پروگرام پر نئی پابندیاں عاید کرنے کی منظوری دی ہے۔ امریکا ایک عرصے سے ایران کے بیلسٹک میزائل تجربات بالخصوص جوہری وار ہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھنے والے میزائلوں کی تیاری روکنے کے لیے تہران پر دباؤ ڈال رہا ہے۔ امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ بیلسٹک میزائلوں کی تیاری جاری رکھ کر ایران سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 کی کھلی خلاف ورزی کا مرتکب ہو رہا ہے۔

امریکی ایوان نمائندگان نے H.E.1698 کے نام سے ایک مسودہ قانون کی منظوری دی ہے جس میں ایران کے میزائل پروگرام پر عالمی پابندیوں میں توسیع کی سفارش کی گئی ہے۔