.

ایران میں 1988 کا قتل عام ، اقوام متحدہ نے سرکاری طور پر وضاحت طلب کر لی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں انسانی حقوق کی صورت حال سے متعلق اقوام متحدہ کی خصوصی ںمائندہ عاصمہ جہانگیر نے مطالبہ کیا ہے کہ 1988 میں ایران میں ہزاروں سیاسی قیدیوں کو موت کے گھاٹ اتارے جانے کے واقعے کی تحقیقات کی جائیں۔

جمعرات کے روز نیویارک میں ایک پریس کانفرنس کے دوران عاصمہ نے انکشاف کیا کہ اس سلسلے میں ایرانی حکام سے سرکاری طور پر مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اس قتل عام کے دوران حزب اختلاف کی شخصیات اور کارکنان سمیت ہزاروں قیدیوں کو موت کی نیند سلا دیے جانے کے حوالے سے وضاحت پیش کریں۔

عاصمہ نے زور دیا کہ اس قتل عام کے حوالے سے ایک جامع اور آزادانہ تحقیق کا آغاز کیا جانا چاہیے۔ اقوام متحدہ کی ترجمان کے مطابق "کسی بھی ملک کی حکومت ریاست میں اپنی کارروائیوں کی ذمے دار ہوتی ہے اور ہم جانتے ہیں کہ موت کے گھاٹ اتارے جانے کی اس کارروائی میں شریک کئی ذمے داران ابھی زندہ ہیں اور مختلف عہدوں پر کام کر رہے ہیں"۔

ایران کے سابق شیعہ مرجع اور معروف مذہبی شخصیت آیت اللہ حسین علی منتظری کے بیٹے احمد منتظری نے کچھ رعرصہ قبل ایک اڈیو ریکارڈنگ جاری کی تھی جو 15 اگست 1988 کو ہونے والے ایک اجلاس کے دوران کی بات چیت پر مشتمل ہے۔ اجلاس میں آیت اللہ منتظری کے علاوہ "ڈیتھ کمیشن" کے 4 ارکان بھی شریک تھے جو عدلیہ اور انٹیلی جنس حکام میں سے تھے اور یہ ہی افراد انیس سو اسّی کے اس قتل عام پر عمل درامد کی نگرانی پر مامور تھے۔

آڈیو ٹیپ میں آیت اللہ منتظری نے ڈیتھ کمیشن کے چاروں ارکان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ "تم لوگوں نے اسلامی جمہوریہ ایران کی تاریخ کے سب سے بڑے جرم کا ارتکاب کیا ہے۔ اس طرح تاریخ خمینی کو ایک مجرم اور خونی کے طور پر یاد رکھے گی"۔

اس موقف کے سبب خمینی نے منتظری کو اپنی جاں نشینی کے منصب سے سبک دوش کر دیا۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس آڈیو ریکارڈنگ کو قتل عام میں ملوث ذمے داران کے خلاف عدالتی کارروائی کے لیے بمنزلہ ایک مضبوط دستاویز شمار کیا ہے۔

اس ریکارڈنگ کو اِفشا کرنے کے سبب ایران میں مذہبی شخصیات سے متعلق خصوصی عدالت نے علی احمد منتظری کو رواں سال مارچ میں 6 برس قید کی سزا سنا دی۔

مذکورہ ڈیتھ کمیشن میں صدر روحانی کی حکومت کے سابق وزیر انصاف بیرسٹر مصطفی پور محمدی ، مذہبی شخصیات سے متعلق عدالت کے سربراہ اور خامنہ ای کے بعد ولی فقیہ کے منصب کے ممکنہ جاں نشیں بیرسٹر ابراہیم رئیسی کے علاوہ شرعی جج حسین علی نیَری اور سابق اٹارنی جنرل مرتضی اشراقی شامل تھے۔ ایرانی مرشد اعلی علی خامنہ ای نے 4 جون کو اپنے خطاب میں 80ء کی دہائی کے اس قتل عام کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ دہشت گردوں اور منافقوں کے لیے جوابی کارروائی کے طور پر واقع ہوا۔