.

سعودی وزارت داخلہ مملکت کے قانون شہریت میں تبدیلی پر تیار؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی مجلس شوریٰ کے ترجمان ڈاکٹر محمد المھنا نے بتایا ہے کہ وزارت داخلہ نے مملکت کے قانون شہریت میں ترمیم کیلئے ورکنگ ٹیم تشکیل دی ہے۔

اس امر کا اظہار انہوں نے مجلس شوریٰ میں سعودی قانون شہریت میں ترمیم کے مسودے پر بحث کو ملتوی کرنے کے محرکات سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے بتایا۔ متعدد فاضل ارکان شوریٰ نے سعودی قانون شہریت میں ترمیم تجویز پیش کر رکھی ہے جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ سعودی ماؤں کی غیر ملکی اولاد کو مملکت کا شہری مانا جائے۔

شیخ المھنا نے بتایا کہ جب تک وزارت داخلہ کی ورکنگ ٹیم قانون شہریت کا جائزہ مکمل نہیں کرے گی تب تک مذکورہ قانون میں ترمیم کا مسودہ شوریٰ میں زیر بحث نہیں آئے گا۔ انہوں نے بتایا کہ شوریٰ میں سلامتی امور کی کمیٹی مذکورہ ترمیم کا ہمہ جہتی جائزہ لے چکی ہے۔ تین ارکان شوریٰ لطیفہ الشعیان، ھیا المنیع اور عطا السبتی نے اکتوبر 2016 میں قانون شہریت میں ترمیم تجویز کی تھی۔

غیر ملکی بچوں کی سعودی مائیں ارکان شوریٰ کی تجویز سے بہت ساری امیدیں وابستہ کئے ہوئے ہیں۔ سعودی ماؤں کی غیر ملکی اولاد ترمیم مذکور کی فائل کے سرد خانے میں رکھے جانے پر تشویش کا شکار ہے۔ ایک اطلاع کے مطابق احوال مدنیہ کے قانون میں ترمیم بھی زیر غور ہے۔