.

امریکی انتخابات میں روس کی مداخلت کا کوئی ثبوت نہیں : لاؤروف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاؤروف کا کہنا ہے کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ ماسکو نے امریکی صدارتی انتخابات میں مداخلت کی۔

منگل کے روز ایک پریس کانفرنس میں لاؤروف نے کہا کہ "ہم پر بنا کسی ثبوت کے انتخابات میں مداخلت کا الزام عائد کیا جا رہا ہے ، نہ صرف امریکا بلکہ دیگر ممالک میں بھی"۔

روسی مداخلت سے متعلق تحقیقات کے سلسلے میں پیر کے روز ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم کی ٹیم کے تین ارکان پر فردِ جرم عائد کر دی گئی جن میں مہم کے سابق ڈائریکٹر پال مینافورٹ شامل ہیں۔ مینافورٹ اور ان کے شراکت دار رچرڈ گیٹس نے خود پر عائد الزامات مسترد کر دیے۔

اسی طرح انتخابی مہم کی ٹیم کے سابق رکن جارج بیباڈوبولوس پر بھی فرد جرم عائد کی گئی ہے جو پہلے ہی اس بات کا اعتراف کر چکے ہیں کہ انہوں نے امریکی ایف بی آئی کے تحقیق کاروں سے غلط بیانی کی تھی۔

سرگئی لاؤروف کے مطابق موجودہ امریکی انتظامیہ کے بعض تصرفات جن کے بارے میں بعض مرتبہ کوئی قیاس آرائی نہیں کی جاسکتی انہوں نے "سنگین اندیشے" پیدا کر دیے ہیں۔

اس حوالے سے روسی وزیر خارجہ نے جزیرہ نما کوریا میں بحران کے حل کے لیے طاقت کے استعمال کی دھمکی اور ٹرمپ کی جانب سے ایران کے جوہرہی معاہدے پر عمل درامد کی توثیق سے انکار کی جانب اشارہ کیا۔