.

حلال سیاحت سالانہ 100 ارب ڈالر کے حجم کی جانب گامزن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کئی برس سے نمایاں پیش رفت کے حامل عالمی سیاحت کے سیکٹر میں مسلمانوں کی اہمیت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے عالمی سطح پر "حلال سیاحت" کا مفہوم گردش میں نظر آ رہا ہے۔

بہت سے مبصرین کے نزدیک جو ممالک اپنے سیاحتی سیکٹر کی بلند شرح نمو کے خواہش مند ہیں ان پر لازم ہے کہ وہ مسلمان سیاحوں کے لیے ان کی مطلوبہ خدمات پیش کریں۔ خبر رساں ایجنسی بلوم برگ کی رپورٹ کے مطابق سفر کی ترقی پاتی منڈی کے لیے ضروری ہو گیا ہے کہ ریاست مسلمان سیاحوں کے لیے دوستانہ ماحول فراہم کرنے والا ملک ہو۔

عالمی کمپنی "ماسٹر کارڈ" نے سیاحت و سفر سے متعلق ویب سائٹ "حَلال ٹِرِپ" کے تعاون سے جاری رپورٹ میں بتایا ہے کہ 18 سے 36 برس کے مسلمان جوان عالمی سیاحت کی منڈی میں اہم حیثیت کے حامل بن گئے ہیں۔

رپورٹ میں توقع ظاہر کی گئی ہے کہ سال 2025 تک سیاحوں کے اس طبقے (مسلمان جوانوں) کی جانب سے سالانہ خرچ کی جانے والی رقم کا حجم 100 ارب ڈالر ہو جائے گا جو گزشتہ برس خرچ ہونے والی رقم سے دو گنا ہو گی۔ اس کا مطلب ہوا کہ یعنی دس برس سے بھی کم عرصے میں مسلمان نوجوانوں کی جانب سے خرچ ہونے والی رقم دگنی ہو جائے گی۔

مذکورہ اعداد و شمار سے یہ بات باور ہوتی ہے کہ سعودی عرب ان ممالک میں سر فہرست ہو گا جو عالمی سطح پر مسلمانوں کے سیاحتی مجمعے سے مستفید ہو گا۔ اس کی بنیادی وجہ ممکت میں سیاحتی سیکٹر کی سرگرمی اور تیز رفتار ترقی ہے جس کے سبب دنیا بھر سے سیاحوں کی ایک بڑی تعداد کے کھنچے چلے آنے کی توقع ہے۔ اس کے علاوہ مملکت سعودی عرب اس حوالے سے بھی منفرد حیثیت رکھتی ہے کہ ہر سال کروڑوں حجاج اور معتمرین عبادت اور حرمین کی زیارت کے لیے یہاں کا رخ کرتے ہیں۔

بلوم برگ نے سیاحتی امور کے ماہر ڈگلس کوینبے کے حوالے سے بتایا ہے کہ اسلامی ممالک میں آبادی کی شرح تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے اور ان ممالک کے عوام میں متوسط طبقے کے جوانوں کو سیاحت اور عبادت اور حج کی غرض سے سفر کی زیادہ ضرورت درپیش ہوتی ہے۔

بلوم برگ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جنوبی کوریا نے کچھ عرصہ قبل اسلامی اصولوں کے موافق ریستورانوں کا ایک میلہ منعقد کیا تھا جو ملک میں حلال سیاحت کو سپورٹ کرنے اور مسلمانوں کو اپنے ملک لانے کی ایک کوشش تھی۔