.

امریکا کا قطر کے خیراتی نظام اور رقوم کی مشتبہ منتقلی کی نگرانی سے اتفاق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قطر نے امریکا کے ساتھ دہشت گردوں کو رقوم کی منتقلی روکنے کے لیے تعاون کے ضمن میں کوششیں بڑھانے سے اتفاق کیا ہے۔

امریکا کی ایک خبری ویب گاہ واشنگٹن ایگزامینر کی رپورٹ کے مطابق وزیر خزانہ اسٹیون منوچین نے قطری حکام سے سمندر پار ایک ملاقات کے بعد اس سمجھوتے کا اعلان کیا ہے۔کسی امریکی وزیر کا ایک ہفتے میں قطر کا یہ دوسرا دورہ تھا۔اس سے پہلے وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن نے دوحہ کا دورہ کیا تھا اور قطری قیادت سے خلیج بحران کے حل کے لیے بات چیت کی تھی۔امریکی حکام کی قطری حکام سے یہ ملاقاتیں دوحہ حکومت کو دہشت گردی کی مشتبہ مالی معاونت سے باز رکھنے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔

منوچین نے سوموار کو ایک بیان میں کہا تھا :’’ہم اس امر کی تصدیق کرتے ہیں کہ امریکا اور قطر اس بات کو یقینی بنانے کے لیے تعاون میں نمایاں اضافہ کریں گے کہ قطر دہشت گردوں کی مالی معاونت کے لیے کوئی سازگار ملک نہیں رہا ہے بلکہ اس کے مخالف ماحول کا حامل ہے‘‘۔

ان کوششوں کے تحت قطری حکام کے لیے ایک نیا نظام وضع کیا جائے گا تاکہ پابندیوں کے لیے دہشت گردوں کو نامزد کیا جاسکے۔اس کے علاوہ قطر کے نجی شعبے کی جانب سے جہادی گروپوں کی مالی معاونت کے حوالے سے بھی معلومات کا تبادلہ کیا جائے گا تاکہ ایسے عناصر کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جاسکے۔اس سے خطے میں بھی دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام کی جاسکے گی۔

واضح رہے کہ گذشتہ قریباً ایک سال سے قطر کی جانب سے دہشت گردی کی مالی معاونت کا موضوع عالمی سطح پر ایک بڑی سفارتی ترجیح رہا ہے ۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مئی میں سعودی عرب کے پہلے دورے کے موقع پر عرب اقوام پر زور دیا تھا کہ ’’وہ دہشت گردوں کو ان کے مالی ذرائع سے محروم کردیں‘‘۔چار عرب ممالک سعودی عرب ، مصر ، متحدہ عرب امارات اور بحرین نے دہشت گرد گروپوں کی حمایت کے سبب ہی قطر سے جون سے تعلقات منقطع کررکھے ہیں۔