.

تیونس : مذہبی جنونی نے دو پولیس اہلکاروں کو چاقو گھونپ دیا،ایک شدید زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیونس کے دارالحکومت میں پارلیمان کی عمارت کے سامنے ایک مذہبی جنونی نے دو پولیس اہلکاروں کو چاقو کے وار کرکے زخمی کردیا ہے۔

تیونس کی وزارت داخلہ کے ترجمان یاسر مصباح نے بتایا ہے ’’ ایک سلفی انتہا پسند نے ان دونوں پولیس اہلکاروں پر چاقو سے حملہ کیا تھا ۔اس نے ان میں سے ایک کی پیشانی پر چاقو کا وار کیا اور ایک کی گردن پر چاقو گھونپا ہے۔ ایک پولیس اہل کار چاقو کے وار سے بری طرح گھائل ہوا ہے اور اس کی حالت تشویش ناک ہے‘‘۔

وزارت داخلہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس حملہ آور کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔اس نے یہ اقرار کیا ہے کہ اس نے تین سال قبل انتہا پسندی کے نظریے کو قبول کیا تھا اور اس کے تحت وہ سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو غدار سمجھتاہے۔وہ اس یقین کا بھی حامل ہے کہ ’’سکیورٹی اہلکاروں کو جان سے مارنا جہاد ہی کی ایک شکل ہے‘‘۔

اس ملزم کو گرفتاری کے بعد ایک پولیس تھانے میں منتقل کردیا گیا ہے۔اس کی عمر بیس اور تیس سال کے درمیان بتائی گئی ہے۔اس تھانے کے ایک اہلکار نے بتایا ہے کہ ملزم اپنے فعل سے پوری طرح آگاہ ہے۔وہ بڑے سکون سے گفتگو کررہا تھا اور اس کو اپنے کیے پر کچھ پچھتاوا نہیں ہے۔

اس اہلکار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اس گرفتار ملزم کا پولیس کے روبرو یہ بیان نقل کیا ہے:’’ آج ( بدھ) کی صبح میں نے نماز اداکی اور یہ فیصلہ کیا کہ جہاد کے لیے کچھ کیا جانا چاہیے۔میں نے اپنے سامنے پولیس اہلکار دیکھا ۔ میرے نزدیک وہ ایک غدار تھا۔پھر میں نے وہی کیا جو مجھے کرنا چاہیے تھا‘‘۔

تیونس کی نیشنل سکیورٹی فورسز کے ترجمان ولید حکمیہ نے سرکاری ٹیلی ویژن کو بتایا کہ پولیس اہلکاروں پر یہ حملہ مقامی وقت کے مطابق صبح آٹھ بجے کیا گیا تھا اور حملہ آور کو موقع پر ہی گرفتار کر لیا گیا تھا۔