.

عالمی مارکیٹ میں جولائی 2015 ء کے بعد تیل کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان

اوپیک اور غیر اوپیک ممالک تیل کی قیمتوں میں استحکام کے لیے موجودہ رسد کو برقرار رکھیں گے : ماہرین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عالمی مارکیٹ میں 2015ء کے بعد تیل کی قیمتوں میں پہلی مرتبہ زیادہ اضافہ میں آیا ہے جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک تیل کی موجودہ رسد کو برقرار رکھے گی اور روس نے بھی کہا ہے کہ وہ پیداوار میں کمی کے سمجھوتے پر عمل پیرا رہے گا۔

لندن میں برینٹ خام تیل کی فی بیرل قیمت میں 55 سینٹ کا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور بدھ کو گرینچ معیاری وقت کے مطابق دوپہر بارہ بجے برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سود ے 61.49 ڈالرز فی بیرل میں طے پائے تھے اور یہ جولائی 2015ء کے بعد تیل کی فی بیرل سب سے زیادہ قیمت ہے۔

ادھر امریکا میں ویسٹ ٹیکساس انٹر میڈیٹ خام تیل کی فی بیرل قیمت میں 56 سینٹ کا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور مستقبل کے سودے 54.94 ڈالرز فی بیرل میں طے پائے ہیں۔اکتوبر میں عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں سات فی صد اضافہ ہوا ہے اور یہ مسلسل دوسرا مہینہ ہے جس میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان دیکھنے میں آیا ہے۔

تجزیہ کاروں اور تیل کے تاجروں کا کہنا ہے کہ روس تیل کی پیداوار میں کمی سے متعلق اوپیک ممالک سے سمجھوتے پر عمل پیرا رہے گا۔اس نے اوپیک ممالک کے ساتھ تیل کی پیداوار میں یومیہ تین لاکھ بیرل کی کمی سے اتفاق کیا تھا۔اس سمجھوتے کی وجہ سے اوپیک اور غیر اوپیک ممالک نے اپنی پیداوار میں کمی کردی تھی اور یوں عالمی مارکیٹ میں بھی تیل کی رسد کم ہونے کی وجہ سے قیمتوں میں استحکام آیا ہے۔

بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا کی تیل کی پیداوار میں اضافے سے عالمی مارکیٹ میں قیمتوں میں اتار چڑھاؤ آسکتا ہے۔امریکا کی تیل کی پیداوار میں 2016ء کے بعد سے 13 فی صد اضافہ ہوچکا ہے اور یہ بڑھ کر 95 لاکھ بیرل یومیہ ہوچکی ہے جبکہ اپریل 2015ء میں اس کی تیل کی یومیہ پیداوار 96 لاکھ 20 ہزار بیرل تھی ۔بارکلیز بنک کی رپورٹ کے مطابق اس سال کے اختتام تک امریکا کی تیل کی یومیہ پیداوار اس سطح سے بڑھ سکتی ہے۔