.

مین ہیٹن حملہ آور سے متعلق دلچسپ معلومات!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

نیویارک مین ہیٹن میں راہ گیروں کو ٹرک تلے کچلنے کے واقعے کے بعد سامنے آنے والی ابتدائی معلومات میں بتایا گیا ہے کہ اس واقعے کا مرکزی ملزم مسلمان ہے اور وہ ازبکستان سے سات سال قبل امریکا آیا۔ وہ فلوریڈا میں مقیم تھا تاہم دہشت گرد حملے کی غرض سے نیویارک آیا جس میں آٹھ افراد ہلاک ہوئے، جس کے بعد اسے پولیس نے حراست میں لے لیا۔

امریکی ذرائع ابلاغ کے توسط سے جمع کی جانے والی معلومات کے مطابق حملہ آور کا نام سیف اللہ حبیب لیوٹیکس سایپوف ہے اور اس کی عمر 29 برس ہے۔ وہ 2010ء سے امریکی ریاست فلوریڈا کے شہر ٹامپا میں مقیم تھا، تاہم امریکا آمد کے فورا بعد وہ ریاست اوہائیو میں بھی مقیم رہا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق سایپوف مجرمانہ ریکارڈ کا حامل رہا ہے، تاہم ان جرائم میں زیادہ تر کا تعلق ٹریفک اصولوں کی خلاف ورزی سے ہے جن کا اس نے ریاست میزوری اور پیسلوانیا میں ارتکاب کیا۔

سایپوف کمرشل ٹرک چلاتا تھا، تاہم اس کے ایک دوست نے بتایا کہ وہ ٹیکسی بھی چلاتا ہے اور کچھ عرصہ ریاست نیو جرسی میں بھی مقیم رہا ہے۔ تاہم جس ٹرک سے اس نے آٹھ امریکی شہریوں کو کچلا ہے وہ اس نے ہوم ڈپو نامی کمپنی سے نیوجرسی سے کرائے پر لیا۔

حملے کے بعد سایپوف سے ایک چھوٹی گاڑی میں فرار کی کوشش کی، تاہم اس کی گاڑی سکول بس سے ٹکرانے کے بعد رک گئی جس پر پولیس نے اس پر فائرنگ کی جس سے وہ زخمی ہوا جس کے بعد اسے حراست میں لے لیا گیا۔

یاد رہے کہ مین ہیٹن میں راہ گیروں کو کچلنے کا واقعہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے قریب ہی ہوا۔ یہ جگہ گیارہ ستمبر 2001ء کو ہونے والے ان ٹاورز کے قریب جہاں القاعدہ نے طیاروں کے ذریعے متعدد عمارتوں کو نشانہ بنایا تھا۔