.

ایران نےاسامہ بن لادن کی بیٹی کو سعودی عرب واپس جانے سے کیوں روکا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے مرکزی خفیہ ادارے سی آئی اے نے القاعدہ کے مقتول سربراہ اسامہ بن لادن کی جو دستاویز جاری کی ہیں،ان میں ان کی بیٹی ایمان کا ایک خط بھی شامل ہے جو انھوں نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو لکھا تھا۔اس خط کے اہم اقتباسات یہ ہیں:

’’اسامہ بن لادن کی بیٹی کی طرف سے ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے نام ، میرا یہ پیغام میری خالہ ، بہنوں ، بھائیوں اور بیٹوں کے بارے میں ہے جو ایران میں داخلے کے بعد سے گرفتار ہیں۔ان کے پاس اس ملک میں خفیہ طریقے سے داخل ہونے کے سوا کوئی چارہ کار نہیں رہا تھا‘‘۔

وہ لکھتی ہیں:’’ میرے خاندان کو ایران میں داخل ہونے کے ایک سال کے بعد ایرانی سکیورٹی فورسز نے گرفتار کر لیا تھا۔جب ہمیں اس کی اطلاع ملی تو ہم نے تہران حکومت کو متعدد مرتبہ ان کی رہائی کے لیے خط لکھے۔ان میں یہ بھی وعدہ کیا گیا تھا کہ وہ ایران دوبارہ نہیں لوٹیں گے لیکن اس مراسلت کا کچھ فائدہ نہیں ہوا تھا‘‘۔

ایمان کے مطابق ان کا بھائی سعد جیل سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا تھا اور اس نے انھیں ایرانی جیلوں میں گزرے اذیت ناک وقت کے بارے میں بتایا تھا۔جیلوں میں اذیتوں کی وجہ سے لوگوں کی اموات ہوئی تھیں اور وہ نفسیاتی عوارض کا شکار ہوگئے تھے۔وہ ایرانی رجیم سے ایک مرتبہ پھر یہ مطالبہ کرتی ہیں کہ و ہ خطے کے سائنس دانوں اور نمایاں شخصیات کو رہا کردیں۔

ایمان مزید لکھتی ہیں:’’ تہران حکومت نے ان کی رہائی کا معاملہ چھے سال تک لٹکائے رکھا تھا۔انھوں نے میرے والد کو پانے کے لیے خاندان کے ان افراد کو یرغمال بنائے رکھا تھا اور پھر انھیں رہا کرنے کے بجائے یہ مطالبہ کیا کہ عراق میں القاعدہ ایرا ن کی وفادار فورسز اور ملیشیاؤں کے خلاف لڑائی بند کردے‘‘۔

القاعدہ اور ایرانی انٹیلی جنس

ان دستاویز ات میں ایک اور خط بھی شامل ہے جو الحاج عثمان نے القاعدہ کے ایک معروف لیڈر مولوی ازمرائی کو لکھا تھا۔اس سے ایران کی جانب سے القاعدہ کے جنگجوؤں کی حمایت اور سرپرستی کا بھی پتا چلتا ہے۔اس کا اسامہ بن لادن کی خط کتابت میں بھی حوالہ موجود ہے اور اس سے القاعدہ اور ایرانی انٹیلی جنس کے درمیان اس رابطہ کار کا انکشاف ہواہے۔

خط میں الحاج عثمان نے تنظیم کے بعض عناصر اور جنگجوؤں کی فنڈز اکٹھا کرنے کے لیے ایران واپسی کا ذکر کیا ہے۔اس کے علاوہ انھوں نے ایرانی انٹیلی جنس سے بھی رابطہ کرنا تھا۔

اس خط میں عثمان لکھتے ہیں:’’ہم نے اپنے بھائی یاسین الکردی کی بعض بھائیوں کے ساتھ ایران واپسی کا انتظام کیا ہے تاکہ وہ وہاں فنڈز اور افراد کا بند وبست کرسکیں۔وہ ایرانیوں کے لیے بہت قابل قبول شخصیت ہیں۔ہم اس بات پر زور دیں گے کہ یاسین الکردی اور ان کے درمیان براہ راست کوئی رابطہ نہیں ہونا چاہیے اور انھیں اس کی جائے قیام اور نقل وحرکت کے بارے میں بھی نہیں پتا چلنا چاہیے‘‘۔

انھوں نے اس خط میں یہ بھی لکھا تھا کہ’’ان کے آدمیوں کی روانگی سے قبل اس نے انٹیلی جنس سے رابطہ کیا تھا اور انھیں فیصلے سے آگاہ کیا تھا اور انھوں نے اپنے طور پر اس کو لینے کا انتظام کیا تھا اور یہ تمام معاملہ پاکستانیوں کے علم کے بغیر طے پایا تھا۔انھوں نے رابطے کے دوران اس بات کی یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ بھائیوں کی رہائی کا آغاز کردیں گے‘‘۔

اس خط میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ ایرانی انٹیلی جنس نے اسامہ بن لادن اور نجویٰ غانم کی دختر ایمان کو واپس سعودی عرب جانے کی اجازت دینے سے انکار کردیا تھا اور انھیں اس بات پر مجبور کیا گیا کہ وہ اپنی والدہ کے ساتھ شام چلی جائیں۔اس کے بعد وہ 2009ء میں بھاگ کر تہران میں سعودی سفارت خانے میں چلی گئی تھیں۔

عثمان نے اپنے خط میں لکھا تھا :’’ انھوں ( ایرانیوں) نے مجھے بتایا ہے کہ ایمان ابھی تک ان کے پاس ہی ہے اور وہ ان کے سعودی عرب جانے پر رضا مند نہیں ہوئے ہیں۔وہ خود اکیلی شام جاسکتی ہیں یا پھر وہ آپ کے ساتھ شام چلی جائیں۔ یہ ان کی ترجیح ہے ۔اگر یہ ممکن نہیں تو پھر وہ بھائی اسحاق کے خاندان کے ساتھ ہمارے پاس آسکتی ہیں۔وہی رہائی پانے والے بھائیوں کو وصول کریں گے‘‘۔