.

’’متفاخر‘‘ برطانویوں کی نیتن یاہو کے ساتھ اعلانِ بالفور کی صدی تقریبات میں شرکت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانوی وزیراعظم تھریز امے اپنے اسرائیلی ہم منصب بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ جمعرات کو اعلان بالفور کی صدی تقریبات میں شرکت کررہی ہیں۔ایک صدی قبل 1917ء میں برطانوی وزیر خارجہ آرتھر بالفور کے اس اعلان کے نتیجے میں فلسطینی سرزمین پر اسرائیلی ریاست کے قیام کی راہ ہموار ہوئی تھی۔

برطانوی وزیراعظم آج لندن میں نیتن یاہو کے اعزاز میں عشائیہ دے رہی ہیں۔ان کے دفترکی جانب سے جاری کردہ ان کی تقریر کے مندرجات کے مطابق وہ یہ کہیں گی:’’ ہمیں اسرائیلی ریاست کے قیام میں بانی کا کردار ادا کرنے پر فخر ہے‘‘۔

وہ یہود مخالفت کی ان کے بہ قول ایک مذموم شکل پر بھی متنبہ کریں گی جس کے تحت اسرائیلی حکومت کے اقدامات کو اسرائیل کے وجود برقرار رکھنے کے حق کے حوالے سے سوال اٹھانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

نیتن یاہو اعلان بالفور کی صدی تقریبات میں شرکت کے لیے برطانیہ کے پانچ روزہ دورے پر ہیں اور وہ دورے کے دوسرے روز تھریزا مے سے لندن میں واقع ان کے دفتر 10ڈاؤننگ اسٹریٹ میں ملاقات کرنے والے تھے۔انھوں نے برطانوی وزیر خارجہ بورس جانسن سے ایران کے ساتھ جوہری معاہدے سمیت مختلف امور پر بات چیت کی ہے۔

عشائیے میں برطانوی وزراء اور نمایاں شخصیات کے علاوہ اعلان بالفور کے مصنف اور اس وقت کے برطانوی وزیر خارجہ لارڈ آرتھر بالفور کے ایک جانشین کی شرکت بھی متوقع تھی۔

اعلان بالفور 1917ء میں لکھا گیا 67 الفاظ پر مشتمل برطانوی وزیر خارجہ آرتھر بالفور کا ایک خط تھا اور یہ دراصل برطانیہ کی جانب سے فلسطینی سرزمین پر یہودیوں کے لیے ایک قومی ریاست کے قیام کا پروانہ تھا۔اعلان بالفور تب سے متنازع چلا آ رہا ہے ۔اس کے بطن سے فتنہ و فساد اور لامتناہی خونریزی نے جنم لیا تھا اور لاکھوں فلسطینیوں کو اپنے آبائی علاقوں سے بے گھر ہونا پڑا تھا مگر یہ یہودیوں کے لیے فتح ونصرت کی ایک نوید تھا اور ان کی قومی ریاست کے قیام کے لیے برطانیہ اور امریکا نے ہر طرح سے مدد کی تھی۔

اس اعلان کے بعد پے درپے ایسے خونیں واقعات رونما ہوئے تھے جن سے اسرائیل کے قیام کی تو راہ ہموار ہوئی تھی مگر اس کے بعد فلسطینیوں کی غصب شدہ سرزمین میں لا کر بسائے گئے یہود اور فلسطینیوں کے درمیان ایسا خونیں تنازع شروع ہوگیا تھا جس کا آج ایک سو سال کے بعد بھی کوئی اختتام نظر نہیں آرہا ہے مگر برطانیہ کے موجودہ عہدے دار کسی قسم کی ندامت یا پچھتاوے کے بجائے اس بات پر فخر کا اظہار کررہے ہیں کہ ان کے پیش روؤں نے صہیونی ریاست کی تخلیق میں نمایاں اور بنیادی کردار ادا کیا تھا۔