.

’میری جگہ حضرت عمر ہوتے تو وہ بھی ایسا ہی کرتے‘

خاتون اہلکار کو طمانچہ مارنے والے مصری رکن پارلیمان کا ’بھونڈا‘ جواز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصرکی شمالی گورنری فیوم کے حلقہ سنورس سے پارلیمنٹ کے رکن منتخب ہونے والے ایک مقامی سیاسی لیڈر منجود الھواری ایک خاتون سیکیورٹی اہلکار کے چہرے پر طمانچہ مارنے کے اقدام کا دفاع کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ میں نے اپنی بیٹی پر تشدد کا بدلہ لیتے خاتون اہلکار کو طمانچہ مارا ہے۔ اگر میری جگہ خلیفہ دوم سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ہوتے تو وہ بھی ایسا ہی کرتے۔

’المحور‘ ٹی وی چینل کے میزبان محمد الباز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں منجود الھواری نے اعتراف کیا کہ انہوں نے ایک خاتون اہلکارہ کو تھپڑ رسید کیا تھا۔ ان کا کہنا ہے مجھے اس خاتون سے کوئی دشمنی نہیں، مگر مجھے ایک والد کی حیثیت سے بیٹی پر تشدد نے بھڑکا دیا۔

واقعے کی تفصیل بیان کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ’میں محکمہ تعلیم کے ایک افسر کی ریٹائرمنٹ کے حوالے سے منعقدہ الوداعی تقریب میں بہ طور مہمان خصوصی شریک تھا۔ اس دوران میرے فون پر میری بیٹی نے کال کی۔ وہ رو رہی تھی اور بہت غصے میں تھی۔ میں نے اس کی پریشانی کی وجہ معلوم کی تو اس نے بتایا کہ ایک خاتون سیکیورٹی سپر وائزر نے کالج میں اسے مارا پیٹا ہے۔ میں نے تقریب کی انتظامیہ سے معذرت کی اور یہ معلوم کرنے روانہ ہوگیا کہ بیٹی کے ساتھ کیا واقعہ پیش آیا ہے۔ میں موقع پر پہنچا تو بیٹی بہت ڈیپریشن اور خوف کا شکار تھی۔ خاتون سیکیورٹی سپر وائز نے اس کے چہرے پر تھپڑے مارے تھے۔ میں نے اس خاتون اہلکار کے چہرے پر ایک تھپڑ مارا۔ اگر میری جگہ حضرت عمر ہوتے تو وہ بھی ایسا ہی کرتے‘۔

ایک سوال کے جواب میں الھواری نے بتایا کہ اس کی بیٹی اپنی ایک کزن کے ہمراہ کالج کی فیس جمع کرانے آئی تھی۔ اس کی کزن کے ساتھ شیر خوار بچہ بھی تھا۔ پہلے تو انہیں اندر جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ جب معاملہ کالج کے ڈین تک پہنچا تو انہوں نے بھی شیر خوار بچے کو اندر لانے سے روک دیا جس کے بعد وہ بچے کو باہر اسی سیکیورٹی اہلکارہ کے پاس چھوڑ آئیں۔

فیس جمع کرانے کے بعد میری بیٹی اور اس کی کزن کے درمیان بھی باہر نکلنے پر کسی بات پر تلخ کلامی ہوئی۔ اس دوران دونوں کی خاتون سیکیورٹی سپروائز سے بھی کسی بات پر جھگڑا ہوا۔ خاتون اہلکار نے میری بیٹی کے چہرے پر دس طمانچے مارے۔ میں نے اس کا بدلہ صرف ایک طمانچے سے لیا ہے۔

خاتون سپر وائزر کو تھپڑ رسید کرنے کے واقعے پر سوشل میڈیا پر شدید رد عمل سامنے آیا ہے۔ لوگوں نے رکن پارلیمان سے تحقیقات کرنے اور انہیں ایک خاتون کی توہین اور اس پر محض اپنی بیٹی کے کہنے پر تشدد کرنے پر سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

مصری کالج کے طلباء نے رکن پارلیمان کی جانب سے کالج کی ملازمہ پر تشدد کا بدلا لیتے ہوئے الھواری کی گاڑی پر پتھرائو کیا اور گاڑی کو شدید نقصان پہنچایا۔