.

’’ایران سعودی دارالحکومت الریاض کے ہوائی اڈے پر میزائل حملے میں ملوّث ہے‘‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی حزبِ اختلاف کی ایک سرکردہ شخصیت اور صحافی محمد نوری زاد نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ایرانی رجیم سعودی عرب کے دارالحکومت الریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر بیلسٹک میزائل کے حملے میں ملوث ہے۔حوثیوں نے یمن سے یہ میزائل داغا تھا ۔

نوری زاد نے ایرانی رجیم کو عراق اور شام میں مداخلت پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور اس کی مذمت کرتے ہوئے اس کو قرون وسطیٰ کا خونیں رجیم قرار دیا ہے ۔انھوں نے کہا کہ ایرانی رجیم کو اپنا دھڑن تختہ ہونے کا خطرہ ہے اور اس لیے وہ اس خطرے سے نبرد آزما ہے۔

واضح رہے کہ نوری زاد ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے قریبی مصاحبین میں شمار ہوتے تھے لیکن پھر وہ منحرف ہو کر حزبِ اختلاف میں شامل ہوگئے تھے اور اب وہ ایرانی حکومت کو اس کے اقدامات پر کڑی تنقید کا نشانہ بناتے رہتے ہیں۔

انھوں نے یوٹیوب سے نشر کیے گئے اس انٹرویو میں کہا ہے کہ دنیا ایرانی رجیم کو ایک مختلف نظر سے دیکھتی ہے اور اس کی نظر میں ایران میں اس وقت جلادوں کے گروہوں اور قاتلوں کی حکومت ہے اور انھوں نے عوام کو یرغمال بنا رکھا ہے۔

نوری زاد نے اپنے ہم وطنوں پر زوردیا ہے کہ رجیم کی تبدیلی کے لیے پُرامن جدوجہد جاری رکھیں۔انھوں نے کہا کہ ’’ ہماری تحریک اسلحہ اٹھانے اور ملّاؤں کو پھانسی چڑھانے پر زور نہیں دیتی ہے ۔ہمیں پُرامن طریقے سے اپنا کام جاری رکھنا چاہیے تا کہ انھیں (ارباب اقتدار کو) گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا جاسکے‘‘۔