.

سعودی عرب پر میزائل حملہ ، حسن روحانی حوثیوں کی حمایت میں میدان میں آگئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے صدر حسن روحانی یمن کے حوثی باغیوں کی حمایت میں کھل کر میدان میں آگئے ہیں اور انھوں نے کہا ہے کہ یمن سے الریاض کے ہوائی اڈے پر میزائل حملہ سعودی عرب کی جارحیت کا ردعمل ہے۔

ایران کی خبررساں ایجنسی تسنیم کے مطابق صدر روحانی نے بدھ کو اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’’ یمنی عوام کو اپنے ملک پر بمباری کے ردعمل میں کیا کرنا چاہیے۔کیا انھیں اپنے ہی ہتھیار استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہے؟ آ پ ( سعودی اتحادی) پہلے بمباری بند کریں اور پھر دیکھیں کہ آیا یمنی وہی کچھ نہیں کرتے ہیں‘‘۔

گذشتہ روز سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ایران کی جانب سے یمن کے حوثی باغیوں کو میزائل مہیا کرنے کرنے کے اقدام کو سعودی عرب کے خلاف براہ راست جارحیت قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ اس کو ایک جنگی کارروائی سمجھا جاسکتا ہے۔

حوثی باغیوں نے گذشتہ ہفتے کے روز سعودی دارالحکومت الریاض کی جانب ایک میزائل داغا تھا۔سعودی فورسز نے الریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کی جانب آنے والے اس بیلسٹک کو ناکارہ بنا دیا تھا۔ تاہم اس کے بعض ٹکڑے ہوائی اڈے کی حدود میں گرے تھے لیکن ان سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں نے یہ میزائل داغنے کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحاد نے اس حملے کے ردعمل میں یمن کی برّی ، بحری اور فضائی سرحدوں کی ناکا بندی کررکھی ہے۔