.

قاتلانہ حملے میں زخمی روسی صحافیہ روبہ صحت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس کے ایک غیر سرکاری ریڈیو ’ایخو موسکفی‘ کی خاتون میزبان ’تاتیانا ولگنھاور‘ چاقو حملے کے بعد کئی روز کومے میں رہنے کے بعد اب ہوش میں آگئی ہیں، انہوں نے مختصر بات چیت بھی کی ہے اور کہا ہے کہ وہ اب تیزی کے ساتھ روبہ صحت ہیں، البتہ ڈاکٹروں نے اسے فی الحال بات چیت کم کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

خیال رہے کہ تاتیانا ولگنھاورنامی ایک مقامی روسی خاتون ریڈیو پروگرام کی میزبان کو گذشتہ ماہ اس وقت ایک اسرائیلی شہریت رکھنے والے روسی نے چاقو گھونپ دیا تھا جب وہ ریڈیو پر براہ راست پروگرام کررہی تھیں۔ اس واقعے کے بعد پہلی بار اس کی آواز سنی گئی ہے۔

ولگنھاور کا کہنا ہے کہ وہ اب بہتر ہیں مگر مکمل بحالی میں ابھی کافی وقت لگے گا۔

ریڈیو کی ویب سائیٹ پر پوسٹ ایک فوٹیج میں اسے مسکراتے دیکھا جاسکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب میرے ڈاکٹر کو علم ہوا کہ میں لائیو پروگرام کررہی ہیں تو انہوں نے یقین کر لیا کہ اب مجھے قتل کردیا جائے گا۔ اس لیے اب مجھے اب خاموش رہنا ہوگا۔

زخمی خاتون کا کہنا ہے کہ وہ اب بھی نقاہت اور کمزوری محسوس کرتی ہے اور زیادہ وقت گھر پر آرام میں گذارتی ہیں۔ ان کی سیکیورٹی کے لیے ایک محافظ بھی مقرر ہے اور وہ خود کو زیادہ محفوظ خیال کرتی ہیں۔

ادھرحملے کی تحقیقات کے لیے قائم کردہ کمیٹی کا کہنا ہے کہ ولگنھاور پر چاقو سے حملہ کرنے والے اسرائیل اور روس کی شہریت رکھنے والے بوریس گریٹز نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ وہ گذشتہ پانچ سال سے ولگنھاور کے ساتھ رابطے میں تھا۔

ولگنھاور عمومات اپنے پروگرامات میں حکومت پرکڑی تنقید کرتی رہتی ہیں۔ روس میں سیاسی اور تجارتی حلقوں میں اسے ناپسندیدہ سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ’ایخو موسکفی’ ریڈیو کے صحافیوں اور اس میں آنے والے مہمانوں کو دھمکیوں کا بھی سامنا رہتا ہے۔

دو ہفتے قبل روسی ٹی وی چینل ’رشیا 24‘ نے ایک رپورٹ نشر کی جس میں ریڈیو ’ایخو موسکفی‘ کو امریکی آلہ کار قرار دیا اور کہا کہ یہ ریڈیو آئندہ سال ہونے والے انتخابات سے قبل ملک میں سماجی امن کو تباہ کرنے پر تلا ہوا ہے۔