.

نیویارک: خاتون مسافر "UBER" کے مسلم ڈرائیور کی 'ٹپ' لے اڑی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اگر آپ "اوبر" سروس کے لیے گاڑی چلانے کا کام کرتے ہیں تو پھر خبردار ہو جائیے اور اپنی گاڑی میں "پری چہرہ" سواریاں بٹھاتے ہوئے انتہائی ہوشیار رہیے۔

نیویارک میں "اوبر" کمپنی کے لیے ٹیکسی چلانے والے محمد بویان نے اگست کے مہینے میں ایک 18 سالہ خُوب رو دوشیزہ Gabita کو بطور سواری جب اپنی گاڑی کی پچھلی سیٹ پر بیٹھنے کا موقع دیا تو اس کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ آگے کیا ہونے جا رہا ہے !

گیبیٹا کا اصلی نامGabriela Canales ہے۔ دو روز قبل منظر عام پر آنے والی وڈیو میں وہ نیم عریاں لباس پہنے ہوئے اوبر ٹیکسی کی پچھلی نشست پر اپنے دو ساتھیوں (ایک مرد اور ایک خاتون) نے ساتھ بیٹھی مطلوبہ پتے کی سمت سفر کرتی نظر آ رہی ہے۔ منزل مقصود پر پہنچنے سے قبل گیبیٹا وقتا فوقتا اگلی دونوں نشستوں کے درمیان نصب بکس کے اندر موجود چیز کو دیکھتی رہی جس پر اس کے منہ میں پانی آ جاتا۔

ٹیکسی جب مطلوبہ پتے پر پہنچ گئی تو ڈرائیور محمد بویان نے گاڑی روک دی۔ گیبیٹا نے اپنی تمام تر ہمت کو جمع کیا اور آگے بیٹھے ڈرائیور پر نظر ڈالی کہ آیا وہ اس کو دیکھ تو نہیں رہا۔ اس اطمینان کے بعد کہ ڈرائیور بویان گاڑی سے باہر دیکھ رہا ہے گیبیٹا نے پلک جھپکتے میں ہی دونوں نشستوں کے درمیان لگے بکس کے اندر اپنا ہاتھ ڈالا اور اس میں موجود تمام رقم ایک ہی مٹھی میں سمیٹ لی اور ایک ڈالر بھی چھوڑے بغیر فورا گاڑی سے اتر کر سڑک پر موجود ہجوم میں گُم ہو گئی۔

سواریوں کے اترنے کے بعد ڈرائیور محمد بویان نے ہلکی سی گردن گھما کر پیچھے دیکھا کہ آیا تینوں افراد میں سے کسی نے مذکورہ بکس میں اس کے لیے کوئی بخشش ڈالی ہے یا نہیں۔ تاہم وہ بکس کو خالی دیکھ کر بھونچکا رہ گیا اور اس کو خالی کرنے والوں کی فوری تلاش میں نکلا۔ اوبر کمپنی کی جانب سے گاڑی میں نصب سکیورٹی کیمرے کی وڈیو میں اسی لمحے تک کی عکس بندی کی گئی۔

بعد ازاں اوبر کمپنی کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ ڈرائیور محمد بویان اُس "چورنی" دوشیزہ کے تعاقب میں نہیں گیا بلکہ اس نے کمپنی کو پورے واقعے کی اطلاع دی۔ کمپنی نے اسے ہدایت کی کہ وہ واقعے کو پولیس میں رپورٹ کرے۔ پولیس نے فوری طور پر گیبیٹا کو گرفتار کر لیا کیوں کہ ٹیکسی طلب کرتے ہوئے اس نے اپنا نام اور پتہ فراہم کیا تھا۔