.

اسرائیل میں ارباب ِاقتدار سے خفیہ ملاقاتیں کرنے والی برطانوی وزیر کا استعفا منظور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانوی حکومت نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور دوسرے عہدے داروں سے خفیہ اور غیر مجاز ملاقاتیں کرنے والی وزیر مملکت برائے بین الاقوامی ترقی پریٹی پٹیل کا استعفا منظور کر لیا ہے۔

پریٹی پٹیل کے استعفے کے بعد وزیراعظم تھریزا مے ایک ہفتے میں دو سری مرتبہ اپنی کابینہ میں ردو بدل کررہی ہیں۔یکم نومبر کو برطانوی وزیر دفاع مائیکل فیلن اپنے خلاف جنسی ہراسیت کے الزامات منظرعام پر آنے کے بعد اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے تھے۔

ان کی جگہ تھریزا مے نے اپنے سب سے قریبی اتحادی گاوین ولیم کو وزیر دفاع مقرر کیا ہے۔ دا ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق تھریزا مے کو اس وقت اپنی حکومت برقرار رکھنے کے لیے سخت مشکلات کا سامنا ہے اور یورپی یونین کے لیڈر نئے سال کے آغاز سے قبل ان کی حکومت کے خاتمے کے امکان کی تیاری کررہے ہیں۔

پریٹی پٹیل کے بارے میں گذشتہ ہفتے برطانوی میڈیا نے یہ انکشاف کیا تھا کہ انھوں نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور دوسرے سیاست دانوں اور کاروباری شخصیات سے اگست میں اپنے نجی دورے کے موقع پرغیر مجاز ملاقاتیں کی تھیں اور اس طرح وہ وزارت کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی مرتکب ہوئی تھیں۔ان سے اس بارے میں رپورٹس منظرعام پر آنے کے بعد وزارت چھوڑنے کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔

انھوں نے اپنی وزیراعظم یا ساتھی وزراء کو بھی ان بارہ ملاقاتوں کے بارے میں آگاہ نہیں کیا تھا۔انھوں نے بعد میں اپنے اسرائیل کے اس دورے کا جواز پیدا کرنے کی کوشش کی تھی۔انھوں نے یہ بتایا تھا کہ انھوں نے اپنے محکمے کے حکام سے برطانیہ کی جانب سے گولان کی چوٹیوں میں آنے والے شامی مہاجرین کے لیے اسرائیلی فوج کو امداد اور ادویہ مہیا کرنے کے امکان پر تبادلہ خیال کیا تھا۔

اسرائیلی اخبار ہارٹز کی رپورٹ کے مطابق پریٹی پٹیل نے اگست میں گولان کی چوٹیوں پر قائم اسرائیلی فوج کے ایک فیلڈ اسپتال کا بھی دورہ کیا تھا۔واضح رہے کہ برطانیہ گولان کی چوٹیوں پر اسرائیل کے قبضے کو غیر قانونی قرار دیتا ہے۔اسرائیل نے شام کے اس علاقے پر 1967ء کی جنگ میں قبضہ کر لیا تھا۔

مس پٹیل نے اپنا معاملہ خود بگاڑا تھا اور اسرائیلی حکام سے ملاقاتوں کے بارے میں متضاد بیانات جاری کیے تھے۔جب اگست میں ان کے اسرائیل کے دورے کی خبر منظرعام پر آئی تھیں تو انھوں نے اس بات پر اصرار کیا تھا کہ وزیر خارجہ بورس جانسن اس سے آگاہ تھے۔ پھر جب ان کے محکمے کو اس بیان کی وضاحت کے لیے مجبور کیا گیا تو انھوں نے یہ وضاحتی بیان جاری کیا تھا کہ’’ بورس جانسن کو اس دورے سے آگاہ کردیا گیا تھا لیکن انھیں پیشگی مطلع نہیں کیا گیا تھا‘‘۔

پٹیل کو پھر معذرت کرنا پڑی تھی اور انھوں نے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ یہ ملاقاتیں معمول کے طریق کار کے مطابق نہیں تھیں۔اس کے بعد یہ خبر بھی منظر عام آئی تھی کہ اس خاتون نے ستمبر میں اسرائیل کے پبلک سکیورٹی کے وزیر گیلاد ایردان اور وزارت خارجہ کے ایک عہدہ دار سے ملاقات کی تھی اور اس موقع پر بھی کوئی اور برطانوی عہدہ دار موجود نہیں تھا۔