.

دہشت گردی کے لئے ایرانی حمایت سے عالمی امن کو خطرہ ہے: سعودی عرب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ عالمی ادارہ ایران کی جانب سے دہشت گردی کی عملی حمایت روکنے کے لئے مناسب اقدامات کرے۔

اس امر کا اظہار عالمی ادارے میں سعودی عرب کے مستقبل مندوب کی جانب سے پیش کردہ خط میں کیا گیا ہے۔ بدھ کے روز ارسال کردہ خط میں سعودی عرب نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ایرانی اقدامات سے مملکت سمیت علاقائی سلامتی کو خطرات لاحق ہیں۔

سعودی عرب کی جانب سے عالمی ادارے کے نام خط یمن میں درپیش انسانی صورتحال کے حوالے سے بند کمرے میں ہونے والے اجلاس سے قبل تحریر کیا گیا جس میں مملکت نے ایران نواز حوثیوں کی دہشت گردانہ کارروائیوں کی تفصیل بیان کی۔

خط میں کہا گیا ہے کہ یمن میں بحران کے آغاز سے ہی حوثی ملیشیا تشدد اور جارحیت کا راستہ اختیار کئے ہوئے ہیں۔ حوثی ملک کی آئینی حکومت کو کام کرنے کی اجازت نہیں دے رہے اور نہ ہی سیکیورٹی کونسل کی قراردادوں پر عمل پیرا ہیں جس کی وجہ سے ملک میں انسانی بحران کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ نیز انہی باغیوں نے تنازع کے حل کی خاطر کی جانے والی تمام سیاسی کوششوں کو بھی مسترد کر دیا ہے۔

ریاض نے خط میں اس بات پر زور دیا ہے کہ سمگلنگ کے ذریعے یمن میں سرگرم ان ملیشیاوں کو ایران مسلسل اسلحہ فراہم کر رہا ہے۔ دوسری جانب یمن میں موجود لبنانی حزب اللہ کے جنگجو اس اسلحہ کو استعمال کر رہے ہیں جو یمن میں ایرانی جارحیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

خط کے مطابق دہشت گردی کی امداد سے مملکت کی قومی سلامتی کے ساتھ علاقائی اور عالمی امن کو بھی خطرات لاحق ہیں۔

سعودی عرب نے سیکیورٹی کونسل کو بتایا کہ ایران حکومت میزائل تیاری کے بعد انہیں اسی ماہ کی چار اور 22 جولائی کو مملکت پر داغنے کا ارتکاب کر چکا ہے۔ خط میں اس امر کا بھی اظہار ملتا ہے کہ ایران سے یمن اسلحہ سمگلنگ کی متعدد کوششیں ناکام بنائی جا چکی ہیں۔ یہ اقدامات دراصل عالمی ادارے کی 2015 میں منظور ہونے والی قرارداد 2216 اور دو ہزار سولہ میں پاس ہونے والی قرارداد 2231 کی صریح خلاف ورزی ہیں۔

مملکت نے یہ بات زور دے کر کہی کہ اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق ہم مملکت کی سیکیورٹی کا تحفظ کرنے کے لئے حوثیوں کے تشدد اور دہشت گردی کا مناسب جواب دیں گے۔