.

یمن کی سرحدیں کھول دی گئیں، باغیوں کے ٹھکانوں پر بمباری میں شدت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی قیادت میں یمن میں دستوری حکومت کی عمل داری بحال کرنے کے لیے سرگرم عرب اتحاد نے چند روز قبل بند کیے گئے یمن کی بحری، بری اور فضائی راستے کھول دیے ہیں۔ دوسری جانب اتحادی طیاروں کی جانب سے یمن میں ایران نواز حوثی باغیوں اور مںحرف سابق صدر علی صالح کے وفاداروں کے ٹھکانوں پر بمباری میں اضافہ کردیا ہے۔

’العربیہ‘ کے مطابق یمن کے عبوری دارالحکومت عدن میں بندرگاہوں کے انچارج محمد امزربہ نے بتایا کہ تین روز پیشتر عرب اتحاد نے باغیوں کو اسلحہ کی سپلائی روکنے کے لیے یمن کے سمندری، فضائی اور زمینی راستے بند کر دیے تھے مگر اب انہیں کھول دیا گیا ہے۔ عدن کی بندرگاہوں سے معمول کے مطابق آبی ٹریفک چل رہی ہے۔

ادھر دوسری جانب عرب اتحادی طیاروں کی جانب سے باغیوں کے ٹھکانوں پر حملوں میں اضافہ کردیا گیا ہے۔ اتحادی طیارے باغیوں کے میزائل اڈوں، صنعاء میں باغیوں کی تربیتی تنصیبات، عسکری کیمپوں، شمال مغربی شہر حجۃ میں ان کے ٹھکانوں اور دیگر مقامات پر باغیوں کے مراکز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ تازہ فضائی اور زمینی حملوں میں باغیوں کو بھاری جانی اور مالی نقصان پہنچایا گیا ہے۔ صنعاء کے مضافاتی علاقے ’نھم‘ کے محاذ پر حکومتی فوج اور اس کی حامی قومی ملیشیا کی پیش قدمی جاری ہے۔ سیکیورٹی فورسز نے القناصین چوٹی، زیریں الصافح اور السود کے بقیہ علاقے باغیوں سے آزاد کرالیے ہیں۔

تازہ بمباری کے نتیجے میں حوثیوں کو غیر معمولی جانی اور مالی نقصان پہنچائے جانے کی اطلاعات ہیں۔ ذرائع کے مطابق اتحادی طیاروں نے تازہ کارروائیوں میں صنعاء، ذمار اور حجہ میں باغیوں کے تربیتی مراکز کو نشانہ بنایا۔ ان مقامات پر قریبا 15 فضائی حملے کیے گئے جن میں کم سے کم 60 جنگجو ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوئے ہیں۔

قبل ازیں یمن فوج کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ بمباری میں حوثی باغیوں کی سیاسی کونسل کے چیئرمین صالح الصماد سمیت درجنوں اہم لیڈر ہلاک ہوئے ہیں۔

بدھ کو اتحادی طیاروں نے صنعاء ہوائی اڈے کے قریب الدیلمی فضائی اڈے پر بمباری میں باغیوں کے اسلحہ کے گودام اور میزائل لانچنگ پیڈ کو تباہ کردیا گیا ہے۔ اس کےعلاوہ صنعاء میں ری پبلیکن گارڈ کے اسکول اور فضائی پولیس انسٹیٹوٹ پر بھی بمباری کی گئی۔