.

سرکاری فوج نے مشرقی صنعاء کے کئی علاقے باغیوں سے چھین لیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کی آئینی فوج کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے گذشتہ روز دارالحکومت صنعاء کے مشرق میں باغیوں کے خلاف آپریشن میں کئی اہم علاقے باغیوں سے واپس لے لیے۔

یمنی فوج کے ترجمان کرنل عبداللہ الشنداقی نے بتایا کہ گذشتہ روز مشرقی صنعاء میں کئی مقامات پر علی صالح ملیشیا اور حوثی شدت پسندوں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ خونی جھڑپوں کے بعد باغی مشرق صنعاء کے متعدد اہم دیہات سے پسپا ہو گئے۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے باغیوں کو شکست سے دوچار کرتے ہوئے انہیں بھاری جانی اور مالی نقصان بھی پہنچایا ہے جب کہ ان سے جبل العارضہ، جبل الاسودم التبہ الخضرا، جبل الرکات، الفقیہ اور جربہ ملح کے مقامات باغیوں سے واپس لے لیے ہیں۔

ترجمان نے اپنے ایک بیان میں بتایا کہ مشرق صنعاء میں نھم کے محاذ پر شدید لڑائی جاری ہے۔ تازہ لڑائی میں کم سے کم 17 باغی ہلاک اور دسیوں زخمی ہوئے ہیں۔

حکومتی فورسز کی مشرقی صنعاء میں پیش قدمی میں سعودی عرب کی قیادت میں سرگرم عرب فوجی اتحاد کے طیاروں نے بھی بھرپور معاونت کی۔ عرب اتحادی طیاروں کی بمباری ہےbmb طرز کی تین بکتر بند گاڑیاں تباہ اور پانچ جنگجو ہلاک کیے۔

کرنل الشنداقی کا کہنا تھا کہ نھم اور مشرقی صنعاء میں باٰغیوں کے خلاف شدید لڑائی جاری ہے۔ باغیوں کی بڑی تعداد شکست کھانے کے بعد نقیل بن گیلان کے علاقے کی طرف فرار ہو رہی ہے۔