.

راز کھل گیا: 91' میں تین سو ایرانی فوجی لبنان کیوں لائے گئے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں مصر کے سابق سفیر ڈاکٹر مصطفیٰ عبدالعزیز مرسی نے اپنی حالیہ شائع ہونے والی کتاب میں انکشاف کیا ہے کہ سنہ1991ء میں ایرانی پاسداران انقلاب کے 300 اہلکار لبنان میں ٹھہر گئے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ نہ صرف تین سو ایرانی فوجی لبنان میں موجود رہے بلکہ حزب اللہ سے اسلحہ بھی واپس نہیں لیا گیا۔

ڈاکٹر مصطفیٰ مرسی نے اپنی کتاب’حافظ الاسد حقائق اور افسانے کے درمیان‘ میں کئی اہم انکشافات بھی کیے ہیں۔

وہ لکھتے ہیں کہ اپریل سنہ 1991ء میں سابق ایرانی صدر اکبر ہاشمی رفسنجانی نے دمشق کا دورہ کیا اور اس وقت کے شامی صدر حافظ الاسد سے ملاقات کی تھی۔ رفسنجانی حافظ الاسد سے لبنانی حزب اللہ کو غیر مسلح نہ کرنے کا اپنا مطالبہ منوانے میں کامیاب رہے تھے۔

مصری سفیر نے انکشاف کیاکہ علی اکبر ہاشمی رفسنجانی نے حافظ الاسد سے اس بات کی بھی اجازت حاصل کرلی کہ جنوبی لبنان میں البقاع کی پہاڑی چوٹیوں پر حزب اللہ کو اپنی سرگرمیوں سے نہیں روکا جائے گا۔

ڈاکٹر مصطفیٰ مرسی 281 صفحات پر مشتمل کتاب میں لکھتے ہیں کہ حافظ الاسد نے پاسداران انقلاب کے 300 اہلکاروں کو لبنان میں تعینات کرنے کی ایرانی تجویز مان لی تھی۔ ان اہلکاروں کو لبنان میں حزب اللہ کے جنگجوؤں ک تربیت فراہم کرنے کے لیے بیروت میں رکھا گیا تھا۔ تاہم بعد میں اسرائیل کی طرف سے سنگین نتائج کی دھمکیوں اور حملے کے خوف سے ایران اپنے بعض فوجیوں کو واپس لے گیا تھا مگر سارے فوجی واپس نہیں بلائے گئے۔

دمشق میں مصر کے سابق سفیر کا کہنا ہے کہ لبنان کے بحران کے حل کے حوالے سے سعودی عرب کے شہر طائف میں ایک معاہدہ طے پایا تھا جس کے تحت حزب اللہ ملیشیا سےاسلحہ واپس لینا اور اس عسکری ملیشیا کو ختم کرنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔ مگر اس کے باوجود حزب اللہ سے اسلحہ واپس نہیں لیا گیا۔

خیال رہے کہ لبنان میں بحران کے حل کے لیے ’معاہدہ طائف‘ سنہ 1989ء میں طے پایا تھا۔ اس میں لبنان کی تمام اہم سیاسی قوتیں شامل تھیں۔ معاہدے کے تحت حزب اللہ ملیشیا اور دیگر جنگجو گروپوں کو غیر مسلح کرنا شامل تھا۔