.

ریاض پر حوثیوں کا بیلسٹک میزائل حملہ قابل مذمت ہے: ماکروں

فرانسیسی صدر ماکروں کی 'غیر علانیہ' دورے پر سعودی عرب آمد، ولی عہد سے ملاقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانسیسی صدر عمانو ایل ماکروں جعمرات کی شب متحدہ عرب امارات کا دورہ مکمل کرنے کے بعد غیر علانیہ طور پر سعودی عرب پہنچ گئے جہاں انہوں نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کی۔ سعودی پریس ایجنسی کے مطابق شہزادہ محمد نے فرانسیسی مہمان صدر کو ہوائی اڈے پر خوش آمدید کہا۔

صدر ماکروں نے بتایا کہ انہوں نے یمن کے حوثیوں کی جانب سعودی دارلحکومت ریاض کو نشانہ بنانے کی اطلاعات اور ایران سے متعلق معاملات پر تبادلہ خیال کے لئے جمعرات کی صبح ہی سعودی عرب آنے کا پروگرام بنایا۔ انھوں نے حملے کا ذمہ دار ایران کو قرار دیتے ہوئے کہا اگرچہ میں نے 2015ء کو تہران اور عالمی طاقتوں کے درمیان طے پانے والے نیوکلیئر معاہدے کی حمایت کی تھی لیکن اب میں سمجھتا ہوں کہ ایران کے میزائل پروگرام سے متعلق ایک نیا معاہدہ کیا جانا چاہئے۔

دبئی میں فرانسیسی سکول میں نیوز کانفرنس کے موقع پر مسٹر ماکروں نے بتایا کہ یمن سے دارلحکومت ریاض پر داغا جانے والا میزائل بادی النظر میں ایرانی تھا، جس سے ان کے [میزائل] پروگرام کی طاقت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

ایران کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے اگرچہ اس تبصرے کو فورا نشر نہیں کیا، تاہم بعد ازاں حوثیوں کی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے ان باغیوں کو براہ راست مسلح کرنے سے انکار کیا۔

ہفتے کی شب داغا جانے والا بیلسٹک میزائل ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب سعودی ایئر ڈیفنس نے مار گرایا تھا۔ پیر کی صبح سعودی عرب نے ایران کو خبردار کیا تھا کہ میزائل حملے کو ‘جنگی اقدام سمجھا جا سکتا ہے’۔

فرانسیسی صدر نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ خطے کے استحکام کو یقینی بنانے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہم سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کریں۔

دورہ ابوظہبی، فرانسیسی سیلرز سے خطاب

سعودی عرب آمد سے قبل انھوں نے ابو ظہبی میں فرانسیسی نیوی کے دستوں کے ساتھ نیول بیس پر ملاقات کی۔ متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابُوظہبی کے قریب پورٹ زید پر فرانسیسی نیول بیس IMFEAU واقع ہے۔ فرانسیسی حکومت نے یہ بحری فوجی مرکز سن 2009 میں قائم کیا تھا۔

فرانسیسی سیلرز سے خطاب کرتے ہوئے صدر ماکروں نے اس بیس کو دہشت گرد تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے خلاف جاری عسکری کارروائیوں میں انتہائی اہم قرار دیا ہے۔

فرانسیسی صدر کا کہنا ہے کہ بظاہر شام اورعراق میں دہشت گرد تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ کو حالیہ مہینوں کے دوران مختلف مقامات پر مسلسل شکست کا سامنا رہا ہے لیکن ابھی بھی جہادی برسرپیکار ہیں۔ عمانو ایل ماکروں نے اس تناظر میں مزید کہا کہ جہادیوں کے خلاف مسلح جد و جہد اور جنگ جاری رکھی جائے گی۔

پورٹ زید کے نیول بیس پر فرانسیسی صدر نے کہا کہ اسلامک اسٹیٹ کو اُس کے خودساختہ دارالخلافہ الرقہ میں شکست دی جا چکی ہے اور بہت جلد سارے عراق اور شام میں اس جہادی تنظیم کو مکمل شکست سے دوچار کر دیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کئی سالوں سے قائم مسلح عسکری گروپوں کے خلاف عسکری جد و جہد جاری رکھی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ دہشت گرد گروپوں کے ساتھ نمٹنے سے ہی اس خطے کی ترقی اور مسائل کا حل ممکن ہے۔

اپنے اس دورے کے دوران فرانسیسی صدر نے خطے میں فرانس کے عسکری کردار اور تعاون کو عمومی طور پر مگر متحدہ عرب امارات کے ساتھ خاص طور پر اہم قرار دیا۔ متحدہ عرب امارات میں قائم ایک اور فوجی بیس الظفرہ پر بھی فرانسیسی فوجی متعین ہیں۔ الظفرہ بیس پر پانچ ہزار امریکی فوجی بھی مقیم ہیں۔

دورہ آرٹ میوزیم لُووو

عمانو ایل ماکروں متحدہ عرب امارات میں مشہور آرٹ میوزیم لُوور کی ابو ظہبی شاخ کے افتتاح کے موقع پر وہاں گئے ہیں۔ فرانسیسی صدر نے لُوور ابوظہبی کو تہذیبوں کا سنگم قرار دیا۔ بنیادی لُوورآرٹ میوزیم فرانسیسی دارالحکومت پیرس میں واقع ہے۔ ابوظہبی کی حکومت لوور نام استعمال کرنے پر 525 ملین ڈالر اگلے تیس برسوں تک ادا کرتی رہے گی۔