.

بحرین : حزب ِاختلاف کے لیڈر پر قطر کے لیے جاسوسی کے الزام میں مقدمہ چلے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بحرین کی حزبِ ا ختلاف کے شیعہ لیڈر شیخ علی سلمان ، ان کے دو ساتھیوں حسن سلطان اور علی مہدی کے خلاف قطر کے لیے جاسوسی کے الزام میں اسی ماہ مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔

بحرین کے پراسیکیوٹر کے مطابق ان تینوں کے خلاف 27 نومبر سے اعلیٰ فوجداری عدالت میں مقدمے کی سماعت شروع ہوگی ۔

پراسیکیوشن کی ایک ٹویٹ کے مطابق شیخ علی سلمان کے خلاف یکم نومبر کو ایک غیرملک کے لیے جاسوسی پر فرد الزام عاید کی گئی تھی۔ان پر الزام ہے کہ انھوں نے بحرین کے خلاف بغاوت کا ارتکاب کیا تھا اور اس کے قومی مفادات کو نقصان پہنچایا تھا۔

شیخ سلمان پر ایک بیرونی ملک پر دفاعی راز فاش کرنے اور اسے بحرین کی حیثیت اور شہرت کو نقصان پہنچانے کے لیے معلومات فراہم کرنے پر بھی فرد جرم عاید کی گئی ہے۔

شیخ سلمان اور قطر کے درمیان روابطہ کی تحقیقات کا اگست میں آغاز کیا گیا تھا۔بحرین کے سرکاری ٹیلی ویژن نے ایک رپورٹ بھی نشر کی تھی جس میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ اس چھوٹی سی مملکت میں حکومت مخالف مظاہروں کے پس پردہ قطر کا ہاتھ کارفرما تھا اور اس نے بحرینی حزب اختلاف کی حکومت کے خلاف ان مظاہروں کے لیے حوصلہ افزائی کی تھی۔

قطر کے سابق وزیراعظم اور وزیر خارجہ شیخ حمد بن جاسم آل ثانی نے شیخ علی سلمان سے 2011ء میں رابطہ استوار کیا تھا۔ اس وقت وہ بحرین کی حزب اختلاف کے سب سے بڑے گروپ الوفاق کے سربراہ تھے ۔ رپورٹ کے مطابق شیخ حمد بن جاسم نے علی سلمان کو حکومت کے خلاف مظاہروں کے لیے اُکسایا تھا تاکہ بحرینی ریاست پر دباؤ ڈالا جاسکے۔