.

آخر کیوں؟ سُنی مسلمانوں کی ایران میں نقل وحرکت پر پابندی

فرقہ وارانہ بنیادوں پر اہل سنت سے امتیازی سلوک ایران کی سرکاری پالیسی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں اہل سنت مسلک کے سرکردہ مذہبی رہ نما نے بتایا ہے کہ حکومت نے ملک میں بسنے والے اہل سنت پیروکاروں پر نئی پابندیاں عاید کرتے ہوئے اندرون ملک ان کی نقل وحرکت پر بھی پابندیاں عاید کر دی ہیں۔

خبر رساں ادارے ‘ایسنا‘ نے صوبہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سنی عالم دین مولوی عبدالحمید کے حوالے اپنی خبر میں بتایا ہے کہ سنی مسلک کے لوگوں پر ملک میں عرصہ حیات مزید تنگ کر دیا گیا ہے۔ اہل سنت کے ساتھ ریاستی سطح پر عدم مساوات اور امتیازی برتاؤ کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اہل سنت مسلک کے پیروکاروں پر غیر اعلانیہ سرکاری پابندیاں عاید ہیں۔

علامہ عبدالحمید نے مزید کہا کہ انہیں شمالی مشرقی شہر مشہد کے دورے کے دوران سنگین مشکلات سے گذرنا پڑا۔ انہیں دارالحکومت تہران واپسی پر مجبور کردیا گیا۔ اس واقعے کے بعد وہ بلوچستان سے باہر ایران کے کسی دوسرے صوبے کے سفرنہیں کرسکے۔ ان کا کہنا ہے کہ صوبہ سیستان بلوچستان کے سنی مسلمانوں کے لیے صوبے سے باہرآمد ورفت مشکل بنا دی گئی ہے، تاہم انہوں نے ریاست کے ان سیکیورٹی اداروں کا حوالہ نہیں دیا جن کی جانب سے انہیں پابندیوں کا سامنا ہے۔

ادھر ایران میں انسانی حقوق کی تنظیموں کے بین الاقوامی گروپ نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ سنی عالم دین علامہ عبدالحمید کی صوبہ بلوچستان سے باہر جانے پر حکومت نے پابندی عاید کر رکھی ہے۔ وہ ایران کے کسی دوسرے صوبے میں نہیں جا سکتے ہیں۔

ایران کے موجودہ صدر حسن روحانی کو ایران کے سنی مسلمانوں کی جانب سے بھی انتخابی مہم کے دوران بھرپور حمایت حاصل رہی ہے گذشتہ اگست میں صدارتی انتخابات کے دوران حسن روحانی کی دوسری بار کامیابی کے بعد ان کی تاج پوشی میں سنی عالم دین علامہ عبدالحمید کو مدعو نہیں کیا گیا۔