.

اسامہ بن لادن ایران اور قطر سے مل کر لیبیا میں کیا کرنا چاہتے تھے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

القاعدہ کے مقتول سربراہ اسامہ بن لادن نے سنہ 2011ء کے اوائل میں عرب بہاریہ تحریک کا فیس بُک اور ٹویٹر پر ایک نوعمر جمہوری بہار کے طور پر شایدادراک نہیں کیا تھا بلکہ انھوں نے اس کو انتہا پسندوں کے لیے پھلنے پھولنے اور آگے بڑھنے کا ایک موقع جانا تھا۔

اسامہ بن لادن کی حال ہی میں شائع ہونے والی ڈائری سے ان کے عرب بہاریہ تحریک کے بارے میں خیالات کا پتا چلتا ہے۔انھوں نے اس میں لکھا تھا کہ یہ بہاریہ تحریکیں اپنے مراکز ہی میں رک کر نہیں رہ جائیں گی بلکہ یہ پورے خطے تک پھیل جائیں گی اور ان کی حکومتوں اور نظاموں کا دھڑن تختہ ہوجائے گا۔

انھوں نے لکھا تھا: ’’انھیں ، القاعدہ اور اس کی ذیلی تنظیموں اور شاخوں کو بالخصوص لیبیا کے اسلامی جنگجو گروپ کے ساتھ اتحاد قائم کرنا چاہیے اور جو کوئی بھی ان نظاموں کا انہدام چاہتا ہے،اس کے ساتھ رابطہ کرنا چاہیے بالخصوص ایران اور قطر کے ساتھ روابط استوار کرنے چاہییں‘‘۔

بن لادن نے لیبیا میں معمر قذافی کی حکومت کے خلاف انقلاب کی خبروں کو بڑی دلچسپی سے ملاحظہ کیا تھا اور اس کو اپنے اور اپنی تنظیم کے لیے ایک زریں موقع خیال کیا تھا۔

لیبیا پر توجہ

ڈائری کے پہلے صفحے پر وہ لیبیا کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے لکھتے ہیں:’’ لیبیا میں ابھی انقلاب جاری ہے لیکن بظاہر یہ لگتا ہے کہ معمر قذافی کو کچھ مدد حاصل ہے کیونکہ انھوں نے بعض علاقوں میں صورت حال کو قابو میں لانے کے لیے کارروائیوں کا حکم دے دیا ہے۔آج مصراتہ پر ایک حملہ کیا گیا ہے۔جنگجوؤں نے دو طیارے مار گرائے ہیں اور انھوں نے ان کے ہوا بازوں کو پکڑ لیا ہے‘‘۔

ان صفحات کے بعد لکھا ہے:’’ لیبیا کے حوالے سے بین الاقوامی رائے عامہ قذافی پر مزید دباؤ ڈال رہی ہے سوائے روس کے،اس نے قذافی پر کسی قسم کا دباؤ ڈالنے سے انکار کردیا ہے‘‘۔

بن لادن لیبیا میں ملنے والے موقع سے بخوبی آگاہ تھے کیونکہ عرب بہاریہ تحریکوں کا یہ واحد انقلاب تھا جس کی قیادت سخت گیر کررہے تھے۔ وہ القاعدہ کے نمائندوں کی شکل میں وہاں موجود تھے اور لیبیا کے اسلامی جنگجو گروپ میں شامل تھے۔

اسامہ کی لکھی سطور کو پڑھتے ہوئے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ وہ نیٹو اور مغرب کے معمر قذافی کی حکومت کے خلاف حملوں پر خوش تھے ۔اس کا انھوں نے اپنی ڈائری میں بھی اظہار کیا ہے اور ان صفحات میں ہمیں اسامہ بن لادن کا ایک بالکل مختلف پہلو نظر آتا ہے کیونکہ ان کا 1990ء میں کویت کو عراق سے آزاد کرانے کے لیے امریکا اور اس کے اتحادیوں کی جنگی کارروائی کے بارے میں ایک بالکل مختلف موقف تھا۔وہ امریکا اور مغرب کی مسلم ممالک میں اس طرح کی کارروائیوں کی مخالفت کرتے رہے تھے۔

حال ہی میں شائع شدہ اس ڈائری میں انھوں نے لیبیا میں ایک عظیم تر کردار پر اصرار کیا تھا اور ہر اس شخص سے رابطے کی ضرورت پر زوردیا تھا جس کا لیبیا کی تحریک اثرورسوخ ہوسکتا تھا۔ان میں قطر میں مقیم علامہ یوسف القرضاوی سے لے کر الجزیرہ ٹیلی ویژن تک شامل ہیں جنھیں انھوں نے تیونس سے مصر تک انقلابوں کا ایک جال قرار دیا تھا۔

قطر کا نمایاں کردار

امریکی سی آئی اے کی جاری کردہ دستاویزات میں سے ایک میں قطر کے دہشت گردی کی مالی معاونت کے لیے نمایاں کردار کو اجاگر کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اس کے خلیجی ریاستوں کے ڈھانچے کو نقصان پہنچانے کے منصوبے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

ایک اور دستاویز میں قطر کی جانب سے مسلم علماء کی یونین کے لیے حمایت کا انکشاف کیا گیا ہے۔اس میں القاعدہ کے لیڈر نے یہ تجویز پیش کی تھی کہ اس یونین کو مختلف ناموں کو اپنی سرگرمیوں میں شامل کرنا چاہیے ۔اتفاق سے ان میں وہ نام بھی شامل ہیں جو دہشت گردی کی حمایت اور مالی معاونت پر مختلف ممالک کو مطلوب رہے ہیں۔ مثال کے طور پر ان میں ایک نام حامد العلی کا ہے اور وہ سعودی عرب کو مطلوب ہیں۔

اسامہ بن لادن نے اس مخطوطے میں قطر پر اپنے اعتماد کا اعادہ کیا تھا۔البتہ انھوں نے یہ تجویز پیش کی تھی کہ علماء کونسل کو قطر سے باہر کہیں منتقل کیا جائے لیکن اس کے اخراجات یہ ملک ہی برداشت کرے۔واضح رہے کہ قطر میں مسلم علماء کی یونین 2004ء میں قائم کی گئی تھی اور علامہ یوسف القرضاوی اس کے سربراہ ہیں۔ سعودی عرب اور مصر نے انھیں دہشت گرد قرار دے رکھا ہے۔

اسامہ بن لادن کی ڈائری کا صفحہ
اسامہ بن لادن کی ڈائری کا صفحہ
اسامہ بن لادن کی ڈائری کا صفحہ ۲
اسامہ بن لادن کی ڈائری کا صفحہ ۲
اسامہ بن لادن کی ڈائری کا صفحہ ۳
اسامہ بن لادن کی ڈائری کا صفحہ ۳