.

ایران کی لبنان میں عدم مداخلت خطے کے استحکام کی کلید ہے: فرانس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانس کی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ لبنان کے داخلی امور میں ایران کی عدم مداخلت خطے کے استحکام کے لیے ایک بنیاد ی اور اہم شرط ہے۔

فرانسیسی وزارت خارجہ کی خاتون ترجمان ایجنس رومیتت ایسپاغنے نے سوموار کو اپنی روزانہ کی نیوز بریفنگ میں کہا ہے :’’ ہماری یہ خواہش ہے کہ جن کا بھی لبنان میں اثر ورسوخ ہے، وہ اس ملک کے سیاسی اداکاروں کو اپنی ذمے داریاں مکمل طور پر ادا کرنے کا موقع دیں‘‘۔

انھوں نے کہا:’’ مسٹر سعد الحریری نے گذشتہ روز ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ لبنان اور اس کے ہمسایوں کے داخلی امور میں مداخلت نہ کرے۔ہم اس بات میں یقین رکھتے ہیں کہ خطے کے استحکام کے لیے یہ ایک اہم شرط ہے‘‘۔

ایران پر نئی پابندیاں

ترجمان نے ایران کے خلاف اس کے بیلسٹک میزائلوں کے پروگرام پر ضرورت پڑنے پر نئی پابندیاں عاید کرنے کا بھی عندیہ دیا ہے۔

ایران نے اتوار کو فرانسیسی صدر عمانوایل ماکروں کے بیلسٹک میزائلوں کے پروگرام پر بات چیت کے مطالبے کو مسترد کردیا تھا اور کہا تھا کہ یہ ملک کے دفاع کے لیے ہے اور اس کا عالمی طاقتوں کے ساتھ طے پائے جوہری معاہدے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

خاتون ترجمان ایجنس رومیتت ایسپاغنے نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ’’ جیسا کہ آپ جانتے ہیں،یورپی یونین نے پہلے ہی ایران کے بیلسٹک پروگرام سے وابستہ اداروں پر پابندیاں عاید کررکھی ہیں‘‘۔

ان سے صدر ماکروں کے گذشتہ ہفتے متحدہ عرب امارات کےدورے کے موقع پر اس بیان کی وضاحت کے لیے سوال پوچھا گیا تھا کہ ایران کے خلاف بیلسٹک میزائل پروگرام پر نئی پابندیاں عاید کی جاسکتی ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ ’’ اگر ضرورت پڑی تو یہ نئی قدغنیں عاید کر دی جائیں گی‘‘۔

امریکا نے گذشتہ منگل کو ایران پر حوثی باغیوں کو سعودی عرب کی جانب فائر کیا جانے والا بیلسٹک میزائل مہیا کرنے کا الزام عاید کیا تھا اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ایران کے خلاف سلامتی کونسل کی دو قرار دادوں کی خلاف ورزی پر کارروائی کرے۔
سعودی عرب اور اس کے اتحادی ممالک بھی ایران کے خلاف اسی قسم کے الزامات عاید کررہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ایران یمن کے حوثی باغیوں کے بیلسٹک میزائلوں کے علاوہ دو سرا اسلحہ بھی مہیا کررہا ہے اور یہ اسلحہ یمن میں 2015ء میں مسلح تنازعے کے آغاز سے قبل موجود نہیں تھا۔تاہم ایران ان الزامات کی تردید کرتا چلا آرہا ہے۔

فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں وائی ویس لی دریان اسی ہفتے سعودی عرب اور اس کے بعد ایران کا دورہ کرنے والے ہیں۔ خاتون ترجمان کا کہنا تھا کہ ’’ فرانس اور ایران کے درمیان سیاسی مکالمے کا عمل جاری ہے اور اس میں تزویراتی اور علاقائی امور سمیت تمام موضوعات پر گفتگو کی جائے گی۔مسٹر لی دریان جب ایران جائیں گے تو وہ وہاں پُر عزم انداز میں مکالمہ کریں گے‘‘۔