.

داؤد الشریان’MBC1‘ پر 938 پروگرام پیش کرنے کے بعد رخصت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

معروف صحافی اور اینکر پرسن داؤد الشریان ’ایم بی سی 1‘ پر طویل نشریاتی اور صحافتی خدمات انجام دینے کے بعد ایک نئے صحافتی مشن کے لیے ادارے سے رخصت ہو گئے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ’مڈل ایسٹ براڈ کاسٹک کارپوریشن کے چینل ’MBC1‘ پر رات ’آٹھ بجے‘ کے عنوان سے فلیگ شپ اور عوام کے انتہائی مقبول شو کے 938 پروگرام پورے کرنے کے بعد گذشتہ روز ادارے سے رخصت ہو گئے۔

ایم بی سی ون پر ان کے ٹاک شو کا آغاز 17 مارچ 2012 کو ہوا تھا۔ پانچ سال سے زاید عرسے تک جاری رہنے والے اس صحافتی سفر میں انہوں نے 900 گھنٹوں پر محیط پروگرامات پیش کیے۔ اب وہ نئے صحافتی مشن کے لیے ایم بی سے ون سے الگ ہو گئے ہیں۔ داؤد الشریان کا شو کئی حوالوں سے مقبول تھا مگرسعودی عرب سے متعلق خبروں پر تجزیوں کے حوالے سے انہیں خاص اہمیت حاصل رہی۔

پانچ سال کے دوران انہوں نے اپنے پروگرام ’آٹھ بجے‘ میں مجموعی طور پر 3756 مہمانوں کے انٹرویو کیے اور انہیں اپنے شو میں مدعو کیا۔ ان میں سر فہرست شاہ سلمان بھی شامل ہیں جو اس وقت ولی عہد تھے جب انہوں نے الشریان کے پروگرام ’الثامنہ‘ میں ٹیلیفون پر شرکت کی تھی۔ اس کے علاوہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، حکومتی وزراء، ایگزیکٹو ڈائریکٹرز اور دیگر سرکردہ شخصیات شامل ہیں۔

پروگرام کی کامیابی کا راز

’ایم بی سی ون‘ پر اپنا پروگرام ختم کرنے کے بعد ادارے سے اپنی پانچ سالہ وابستگی اور پروگرام کی کامیابی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ’آپ لوگوں کو بہترین معلومات دیں تو لوگ آپ کا پروگرام ضرور دیکھیں گے‘۔ انہوں نے کہا کہ میرے ٹی وی شو کی کامیابی کی ایک اہم وجہ پہلے دن سے طے کردہ اہداف کے مطابق کام کرنا تھا۔ ہم نے پروگرام کے لیے کو خاکہ تیار کیا تھا اس میں رنگ بھرنے کی پوری کوشش کی۔ پہلے دن ہی سے ہم نے پیشہ وارانہ بنیادوں پر کام کرنے کا تہیہ کر رکھا تھا۔ ہم آٹھ بجے کے پروگرام کو عوام الناس کا مقبول شو بنانے میں کامیاب رہے۔

ایک سوال کے جواب میں داؤد الشریان نے ٹی وی انتظامیہ کے تعاون کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ان کے کامیاب پروگرام کے پیچھے ٹی وی چینل کی انتظامیہ کا تعاون، ناظرین کی طرف سے حوصلہ افزائی اور پروگرام کے لیے ہمہ نوع موضوعات کو بحث کے لیے شامل کرنا بھی تھا۔ انہوں نے کہا کہ میں ایم بی سی چھوڑ کر صحافت سے الگ نہیں ہو رہا بلکہ ایک نئی صحافتی مشن پر جا رہا ہوں۔