.

اربیل اور بغداد کے درمیان خفیہ مذاکرات، ٹکنوکریٹس کی حکومت کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراقی کردستان کی جانب سے وفاقی سپریم کورٹ کے اُن فیصلوں کا احترام کرنے کا اعلان کیا گیا جو عراق کے کسی بھی حصے کی علاحدگی پر پابندی اور ملک کی وحدت سے متعلق تھے۔ اس اعلان کے بعد اربیل اور بغداد کے ترجمان اختلاف ختم ہونے اور بات چیت اور مذاکرات کی جانب واپس لوٹنے کا راستہ بن گیا ہے۔

اس سلسلے میں سیاسی بلاک "اسٹیٹ آف لاء کولیشن" سے تعلق رکھنے والے رکن پارلیمنٹ کامل الزیدی نے بدھ کے روز بتایا کہ کرد ریفرینڈم کا بحران حل کرنے کے واسطے بغداد اور اربیل کے درمیان خفیہ مذاکرات ہو رہے ہیں اور ان میں پیش رفت سامنے آئی ہے۔
الزیدی نے جو 25 ستمبر کو ہونے والے ریفرینڈم سے قبل کردستان کے ساتھ مذاکرات کے لیے تشکیل دی گئی پارلیمانی کمیٹی کے رکن بھی ہیں.. مزید بتایا کہ وزیراعظم حیدر العبادی نے کردوں کے ساتھ مذاکرات کی ذمے داری ایک "خفیہ" کمیٹی کو سونپی جس کے سربراہ ایک اعلی سیاسی شخصیت ہیں۔

ٹیکنوکریٹس کی حکومت

دوسری جانب عراقی کردستان میں کرد سیاست دانوں ، ارکان پارلیمنٹ اور دانش وروں نے ریجن کے صدر نیجرفان بارزانی اور ان کے نائب قباد الطالبانی سے مستعفی ہونے اور ٹیکنوکریٹس پر مشتمل ایک خود مختار حکومت کی تشکیل کے لیے میدان چھوڑ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ حکومت بغداد کے ساتھ بحران کے حل اور کرد صوبوں کا محاصرہ ختم کرنے کے لیے براہ راست کام کرے۔ اس دوران کردستان کے پارلیمانی گروپوں کی قیادت نے عندیہ دیا ہے کہ اگر بغداد نے سالانہ بجٹ میں کردستان کے حصّے میں کمی کی تو وہ سیاسی عمل سے پیچھے ہٹ جائیں گے۔

یاد رہے کہ کردستان اور بغداد 25 ستمبر کو ہونے والے ریفرینڈم کے بعد سے ابھی تک کشیدہ تعلقات کی بحرانی صورت حال سے دوچار ہیں۔ رواں ماہ نومبر کے آغاز میں وفاقی سپریم کورٹ اپنے فیصلے میں باور کرا چکی ہے عراق کے آئین کا پہلا آرٹیکل عراقی سرزمین کی وحدت پر زور دیتا ہے اور کسی بھی نوعیت کی علاحدگی کو ممنوع قرار دیتا ہے۔

کردستان کی جانب سے ریفرینڈم کے اجرا پر اصرار نے عراق کی وفاقی حکومت کو اس ریفرینڈم کو غیر آئینی شمار کرنے پر مجبور کر دیا ، جس کے بعد اس نے کردستان سے اس ریفرینڈم کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا۔ علاوہ ازیں بغداد حکومت نے "سرزنش" کے طور پر کئی اقدامات بھی کیے۔ ان میں اکتوبر میں ایک خاموش عسکری آپریشن کے ذریعے متنازع علاقوں کو واپس لینا شامل ہے۔ بغداد حکومت نے بین الاقوامی فضائی کمپنیوں کا آگاہ کر دیا کہ کردستان کے ہوائی اڈوں پر اعتماد نہ کیا جائے۔ بیرونی ممالک سے مطالبہ کیا گیا کہ خاص طور پر وفاقی حکومت کے زیر کنٹرول گزرگاہوں پر انحصار کیا جائے۔ عراق کے مرکزی بینک نے تمام بینکوں کو حکم جاری کیا کہ وہ کردستان میں اپنی شاخوں کو بند کر دیں۔