.

امریکی وزارت خزانہ خامنہ ای اور 80 ایرانیوں کے مالی اثاثے معلوم کرے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی ایوان نمائندگان میں مالیاتی امور کی کمیٹی نے بدھ کے روز ایک قانون منظور کیا ہے جو امریکی وزارت خزانہ کو اس بات کا پابند بناتی ہے کہ وہ ایرانی سپریم رہ نما علی خامنہ ای اور ایرانی نظام اور پاسداران انقلاب سے تعلق رکھنے والی 80 دیگر سینئر شخصیات کے اثاثوں کا انکشاف کرے۔

قانون کو 16 کے مقابلے میں 43 ووٹوں سے منظور کر لیا گیا۔
قانون کا متن امریکی حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ ایران میں سینئر قیادت کی تمام تر مالی املاک کا اعلانیہ انکشاف کرے اور یہ بھی بتائے کہ ان املاک کو کس طرح حاصل کیا گیا اور کس طرح استعمال کیا گیا۔

اس کے علاوہ مذکورہ قانون امریکی وزارت خزانہ کو ایک جامع رپورٹ تیار کرنے کا بھی پابند بناتا ہے جس میں مرشد اعلی علی خامنہ ای ، صدر حسن روحانی اور شوری نگہبان کے 12 ارکان ، مجلس تشخیص مصلحت نظام ، وزیر انٹیلی جنس ، پاسداران انقلاب کی انٹیلی جنس کے سربراہ اور پاسداران انقلاب کی سینئر قیادت کی منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد کی تفصیلات کا انکشاف کیا جائے۔

دنیا بھر میں غربت کے خاتمے کے لیے کام کرنے والا غیر سرکاری ادارہ "پورگن" نے ستمبر میں جاری اعداد و شمار میں بتایا تھا کہ حکومتی بدعنوانی اور حکمراں طبقے کا ملک کی دولت پر قبضے کے سبب ایران میں غربت کی شرح میں اضافہ ریکارڈ سطح تک پہنچ گیا ہے۔

ادارے کی رپورٹ کے مطابق ملک کی صرف 5% آبادی نے دولت کے منبعوں پر قبضہ کر رکھا ہے اور یہ حکمراں ٹولہ ہے جس کی ابتدا مرشد اعلی سے ہوتی ہے اور اس کے علاوہ سینئر ذمہ داران اور ان کے گھر والے بھی شامل ہیں۔ دوسری جانب 95% عوام غربت کی زندگی گزار رہے ہیں۔ پورگن کے مطابق ایرانی مرشد اعلی علی خامنہ ای کی دولت کا اندازہ 95 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔