.

امریکا : خاتون میزبان کو ہراساں کرنے کی تصویر ، سینیٹر شرم سے پانی پانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جمعرات کے روز ڈیموکریٹک سینیٹر Al Franken کی ایک "شرم ناک" تصویر منظر عام پر آنے کے بعد سے امریکی اُفق پر بھونچال تھمنے میں نہیں آ رہا۔ تصویر میں فرانکن ریڈیو کی ایک خاتون میزبان کو اُس کے سونے کے دوران ہراساں کرتے ہوئے جسم کے "حسّاس" مقامات کو چُھوتے نظر آ رہے ہیں۔

یہ تصویر 2006 کی ہے جب فرانکن سینیٹر منتخب ہونے سے دو سال قبل افغانستان میں امریکی فوجیوں کے لیے ایک تفریحی دورے میں خاتون میزبان لیان ٹویڈن کے ساتھ شریک تھے۔ یہ اسکینڈل لوس اینجلس میں 790 KABC ریڈیو کی خاتون میزبان لیان ٹویڈن کی جانب سے ریڈیو کی ویب سائٹ پر جاری اعترافی بیانات میں سامنے آیا۔

ٹویڈن نے تصدیق کی کہ فرانکن نے زبردستی ان کا "بوسہ" لیا تھا۔ میزبان کے مطابق ان کو معلوم تھا کہ فرانکن ان کے ساتھ کیا کر رہے ہیں۔

دورے سے واپسی پر فوجی طیارے کے اندر فرانکن نے یہ تصویر بنائی جس میں وہ سوتی ہوئی ٹویڈن کے سینے کو ہاتھ لگاتے محسوس ہو رہے ہیں تاہم ٹویڈن نے اس واقعے کا انکشاف اپنی واپسی کے بعد کیا۔

دوسری جانب ایل فرانکن نے اپنی اس گھٹیا حرکت کا اعتراف کرتے ہوئے معافی مانگ لی ہے۔ چھیاسٹھ (66) سالہ فرانکن کا کہنا ہے کہ وہ چار دہائیوں سے شادی شدہ زندگی گزار رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ "مذکورہ تصویر محض ازراہ تفنن کھینچی گئی تھی تاہم مجھے یہ حرکت نہیں کرنا چاہیے تھی"۔

ڈیموکریٹک اور ریپبلکن دونوں پارٹیوں کے ارکانِ سینیٹ کی جانب سے فوری طور پر فرانکن کے ساتھ واقعے کی تحقیقات کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

جہاں تک امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا تعلق ہے تو انہوں نے اپنی حریف ڈیموکریٹک پارٹی کے خلاف گول اسکور کرنے کا یہ "سنہری موقع" ضایع نہیں کیا۔ جمعے کے روز اپنی ٹوئیٹ میں ٹرمپ نے ڈیموکریٹک سینیٹر کو گندا Frankenstein قرار دیا۔ امریکی صدر نے باور کرایا کہ فرانکن کی تصویر انتہائی بے ہودہ اور ہزاروں الفاظ سے بے نیاز کرتی ہے۔

یاد رہے کہ سینیٹ کے انتخابات سے قبل سامنے آنے والے جنسی ہراسیت کے اسکینڈل متوقع طور پر انتخابات میں فیصلہ کن کردار ادا کریں گے جہاں ریپبلکن پارٹی کو امید ہے کہ وہ 48 کے مقابلے میں 52 نشستوں کی اپنی معمولی اکثریت کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہے گی۔